ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
เลือกภาษา

ตัฟซีร: Al-An'am 6:153

6:153
وان هاذا صراطي مستقيما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله ذالكم وصاكم به لعلكم تتقون ١٥٣
وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَٰطِى مُسْتَقِيمًۭا فَٱتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ١٥٣
وَأَنَّ
هَٰذَا
صِرَٰطِي
مُسۡتَقِيمٗا
فَٱتَّبِعُوهُۖ
وَلَا
تَتَّبِعُواْ
ٱلسُّبُلَ
فَتَفَرَّقَ
بِكُمۡ
عَن
سَبِيلِهِۦۚ
ذَٰلِكُمۡ
وَصَّىٰكُم
بِهِۦ
لَعَلَّكُمۡ
تَتَّقُونَ
١٥٣
[153] และแท้จริงนี้คือทางของข้าอันเที่ยงตรงพวกเจ้าจงปฏิบัติตามมันเถิด และอย่าปฏิบัติตามหลาย ๆ ทาง เพราะมันจะทำให้พวกเจ้าแยกออกไปจากทางของพระองค์ นั่นแหละที่พระองค์ได้สั่งเสียมันไว้แก่พวกเจ้า เพื่อว่าพวกเจ้าจะยำเกรง
ตัฟซีร
ชั้นต่างๆ
บทเรียน
ภาพสะท้อน
คำตอบ
กิรอต
หะดีษ
คุณกำลังอ่านตัฟซีร สำหรับกลุ่มอายะห์ที่ 6:152 ถึง 6:153

یتیم کسی سماج کا سب سے کمزور فرد ہوتاہے۔ وہ تمام اضافی اسباب اس کی ذات میں حذف ہوجاتے ہیں جو عام طورپر کسی کے ساتھ اچھے سلوک کا محرک بنتے ہیں۔ ’’یتیم‘‘ کے ساتھ ذمہ داری کا معاملہ وہی شخص کرسکتاہے جو خالص اصولی بنیاد پر باکردار بنا ہو، نہ کہ فائدہ اور مصلحت کی بنیاد پر۔ یتیم کسی سماج میں حسن سلوک کی آخری علامت ہوتا ہے۔ جوشخص یتیم کے ساتھ خیر خواہانہ سلوک کرے وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بدرجہ اولیٰ خیر خواہانہ سلوک کرے گا۔

کائنات کی ہر چیز دوسری چیز سے اس طرح وابستہ ہے کہ ہر چیز دوسرے کو وہی دیتی ہے جو اس کو دینا چاہيے اور دوسرے سے وہی چیز لیتی ہے جو اس کو لینا چاہیے۔ یہی اصول انسان کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ انسان کوچاہیے کہ جب وہ دوسرے انسان کے لیے ناپے تو ٹھیک ناپے اور جب تولے تو ٹھیک تولے۔ ایسا نہ کرے کہ اپنے ليے ایک پیمانہ استعمال کرے ا ور غیر کے ليے دوسرا پیمانہ۔

زندگی میں بار بار ایسے مواقع آتے ہیں کہ آدمی کو کسی کے خلاف اظہار رائے کرنا ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر خدا کا پسندیدہ طریقہ یہ ہے کہ آدمی وہی بات کہے جو انصاف کے معیار پر پوری اترنے والی ہو۔ کوئی اپنا ہو یا غیر ہو۔ اس سے دوستی کے تعلقات ہوں یا دشمنی کے تعلقات، ایسا شخص ہو جس سے کوئی فائدہ وابستہ ہے یا ایسا شخص ہو جس سے کوئی فائدہ وابستہ نہیں، ان تمام چیزوں کی پروا كيے بغیر آدمی وہی کہے جو فی الواقع درست اور حق ہے۔

ہر آدمی فطرت کے عہد میں بندھا ہوا ہے۔ کوئی عہد لکھا ہوا ہوتا ہے اور کوئی عہد وہ ہوتا ہے جو لفظوں میں لکھا ہوا نہیں ہوتا مگرآدمی کا ایمان، اس کی انسانیت اور اس کی شرافت کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس موقع پر ایسا کیا جائے۔ دونوں قسم کے عہدوں کو پورا کرنا ہر مومن ومسلم کا فریضہ ہے— یہ تمام باتیں انتہائی واضح ہیں۔ آسمانی وحی اور آدمی کی عقل ان کے برحق ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ مگر ان سے وہی شخص نصیحت پکڑے گا، جو خود بھی نصیحت پکڑنا چاہتا ہو۔

یہ احکام (الانعام، 6:151-153 )شریعت الٰہی کے بنیادی احکام ہيں۔ ان پر ان کے سیدھے مفہوم کے اعتبار سے عمل کرنا خدا کی سیدھی شاہراہ پر چلنا ہے۔ اور اگر تاویل اور موشگافیوں کے ذریعہ ان میں شاخیں نکالی جائیں اور سارا زور ان شاخوں پر دیا جانے لگے تو یہ اِدھر اُدھر کے متفرق راستوں میں بھٹکنا ہے جو کبھی آدمی کو خدا تک نہیں پہنچاتا۔