ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
เลือกภาษา

ตัฟซีร: Al-A'raf 7:23

7:23
قالا ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنكونن من الخاسرين ٢٣
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَـٰسِرِينَ ٢٣
قَالَا
رَبَّنَا
ظَلَمۡنَآ
أَنفُسَنَا
وَإِن
لَّمۡ
تَغۡفِرۡ
لَنَا
وَتَرۡحَمۡنَا
لَنَكُونَنَّ
مِنَ
ٱلۡخَٰسِرِينَ
٢٣
[23] เขาทั้งสองได้กล่าวว่า โอ้พระเจ้าของพวกเข้าพระองค์ พวกข้าพระองค์ได้อธรรมแก่ตัวของพวกข้าพระองค์เอง และถ้าพระองค์ไม่ทรงอภัยโทษแก่พวกข้าพระองค์และเอ็นดูเมตตาแก่ข้าพระองค์แล้ว แน่นอนพวกข้าพระองค์ก็ต้องกลายเป็นพวกที่ขาดทุน
ตัฟซีร
ชั้นต่างๆ
บทเรียน
ภาพสะท้อน
คำตอบ
กิรอต
หะดีษ

آیت ” نمبر 23

یہ انسان کی وہ خصوصیت ہے جو اسے اپنے رب سے ملائے رکھتی ہے ‘ اور رب تک رسانی کے دروازے کھلے رکھتی ہے ۔ اعتراف جرم اور ندامت و استغفار ۔ اپنی کمزوری کا شعور اور اللہ سے طلب استعانت اور طلب رحمت اور یہ یقین کہ اللہ کے سوا کوئی اور قوت کا سرچشمہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی معاونت کرسکتا ہے ۔ اگر اللہ کی رحمت ومعاونت نہ ہو تو انسان عظیم خسارے سے دوچار ہوتا ہے ۔

یہاں انسان کا پہلا تجربہ پورا ہوجاتا ہے اور اس کی شخصیت کے بڑے بڑے خدوخال واضح ہوجاتے ہیں ۔ خود انسان اپنی کمزوریوں اور اپنے کمالات وصلاحیتوں سے واقف ہوجاتا ہے ‘ وہ صلاحیتیں جو اسے کرہ ارض پر فریضہ خلافت کی ادائیگی کیلئے دی گئی ہیں ۔ اس فریضے کا اہم حصہ یہ ہے کہ اس زمین پر انسان نے اپنے دشمن شیطان کے ساتھ ایک دائمی معرکہ سر کرنا ہے ۔