ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
เลือกภาษา

ตัฟซีร: Al-Furqan 25:18

25:18
قالوا سبحانك ما كان ينبغي لنا ان نتخذ من دونك من اولياء ولاكن متعتهم واباءهم حتى نسوا الذكر وكانوا قوما بورا ١٨
قَالُوا۟ سُبْحَـٰنَكَ مَا كَانَ يَنۢبَغِى لَنَآ أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِكَ مِنْ أَوْلِيَآءَ وَلَـٰكِن مَّتَّعْتَهُمْ وَءَابَآءَهُمْ حَتَّىٰ نَسُوا۟ ٱلذِّكْرَ وَكَانُوا۟ قَوْمًۢا بُورًۭا ١٨
قَالُواْ
سُبۡحَٰنَكَ
مَا
كَانَ
يَنۢبَغِي
لَنَآ
أَن
نَّتَّخِذَ
مِن
دُونِكَ
مِنۡ
أَوۡلِيَآءَ
وَلَٰكِن
مَّتَّعۡتَهُمۡ
وَءَابَآءَهُمۡ
حَتَّىٰ
نَسُواْ
ٱلذِّكۡرَ
وَكَانُواْ
قَوۡمَۢا
بُورٗا
١٨
[18] พวกเขากล่าวว่า มหาบริสุทธิ์พระองค์ท่าน ไม่เป็นการบังควรแก่พวกเรา ที่พวกเราจะยึดถือผู้คุ้มครองอื่น ๆ นอกจากพระองค์ แต่ทว่าพระองค์ได้ทรงประทานปัจจัยให้แก่พวกเขา และบรรพบุรุษของพวกเขา จนกระทั่งพวกเขาได้ลืมต่อการรำลึก และพวกเขาได้เป็นหมู่ชนที่วิบัติ
ตัฟซีร
ชั้นต่างๆ
บทเรียน
ภาพสะท้อน
คำตอบ
กิรอต
หะดีษ
คุณกำลังอ่านตัฟซีร สำหรับกลุ่มอายะห์ที่ 25:17 ถึง 25:19

’’ذکر‘‘ کی تشریح مفسر ابن کثیر نے ان الفاظ میں کی ہے أَيْ نَسُوا مَا أَنْزَلْتَهُ إِلَيْهِمْ عَلَى أَلْسِنَةِ رُسُلِكَ، مِنَ الدَّعْوَةِ إِلَى عِبَادَتِكَ وَحْدَكَ لا شريك لك (تفسیر ابن کثیر، جلد6، صفحہ 99 )۔ یعنی،وہ اس دعوتي پیغام کو بھول گئے جو ان کی طرف تونے اپنے پیغمبروں کی زبان سے تنہا اور لاشریک اپنی عبادت کے ليے اتارا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کی مخاطب قومیں معروف معنوں میں کافر اور مشرک قومیں نہ تھیں۔ وہ دراصل پچھلے انبیاء کی امتیں تھیں۔ ان کے پیغمبروں نے ان کو خدا کی ہدایت پہنچائی۔ مگر زمانہ گزرنے کے بعد وہ دنیا میں مشغول ہوگئے اور اپنے بزرگوں اور پیغمبروں کے بارے میں یہ عقیدہ بنالیا کہ وہ خدا کے یہاں ان کی بخشش کا ذریعہ بن جائیں گے۔ مگر جب قیامت آئے گی تو اس قسم کے تمام عقیدے باطل ثابت ہوں گے۔ اس وقت لوگوں کو معلوم ہوگا کہ اللہ کی پکڑ سے بچانے والا خود اللہ کے سوا کوئی اور نہ تھا۔