Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Anbiya 21:60

21:60
قالوا سمعنا فتى يذكرهم يقال له ابراهيم ٦٠
قَالُوا۟ سَمِعْنَا فَتًۭى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُۥٓ إِبْرَٰهِيمُ ٦٠
قَالُواْ
سَمِعۡنَا
فَتٗى
يَذۡكُرُهُمۡ
يُقَالُ
لَهُۥٓ
إِبۡرَٰهِيمُ
٦٠
Bazıları: "İbrahim denen bir gencin onları diline doladığını duymuştuk" deyince, "O halde bunların şahidlik edebilmeleri için onu halkın gözü önüne getirin" dediler.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
21:59 ile 21:63 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

اگلے دن جب لوگ بت خانہ میں گئے اور دیکھا کہ وہاں کے بت ٹوٹے پڑے ہیں تو ان کو سخت دھکا لگا۔ بالآخر ان کی سمجھ میں آیا کہ یہ اس نوجوان کا قصہ معلوم ہوتاہے جو ہمارے آبائی دین سے منحرف ہے اور اس کے خلاف بولتا رہتا ہے۔

حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑتے ہوئے بالقصد سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا تھا۔ اب جب وہ بلائے گئے اور ان سے باز پرس ہوئی تو انھوں نے کہا کہ یہ بڑا بت صحیح وسالم موجود ہے۔ اس سے پوچھ لو۔ اگر وہ واقعی معبود ہے تو بول کر تمھیں بتائے گا کہ یہ قصہ ان بتوں کے ساتھ کیسے پیش آیا۔

حضرت ابراہیم نے براہِ راست طور پر کوئی بات نہیں کہی۔ مگر بالواسطہ طورپر انھوں نے وہ بات کہہ دی جو اس موقع پر براہِ راست کلام سے بھی زیادہ مؤثر تھی۔