Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Ash-Shu'ara 26:216

26:216
فان عصوك فقل اني بريء مما تعملون ٢١٦
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تَعْمَلُونَ ٢١٦
فَإِنۡ
عَصَوۡكَ
فَقُلۡ
إِنِّي
بَرِيٓءٞ
مِّمَّا
تَعۡمَلُونَ
٢١٦
But if they disobey you, say, “I am certainly free of what you do.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 26:213 to 26:220

اللہ کے سواکسی اور کو معبود بنانا اللہ کی نظر میں بہت بڑا جرم ہے۔ اس کے ارتکاب کے بعد کوئی شخص سزا سے بچ نہیں سکتا۔ حتی کہ وہ شخص بھی نہیں جو زبان وقلم سے توحید کا علم بردار بناہوا ہو۔ داعی کا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو پوری طرح شرک سے بچاتے ہوئے لوگوں کو حق کی طرف بلائے، جن میں اس کے قریبی لوگ بدرجہ اولیٰ شامل ہیں۔

حق کا ساتھ دینے کے ليے اپنی بڑائی کے بت کو توڑنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے لوگوں میں بہت کم ایسے افراد نکلتے ہیں جو حق کا ساتھ دینے کے ليے تیار ہوں۔ زیادہ تر ایسا ہوتاہے کہ حق کا ساتھ دینے کے ليے وہ لوگ اٹھتے ہیں جو سماج میں کمتر حیثیت رکھتے ہوں۔ یہ واقعہ داعی کے ليے سخت امتحان ہوتا ہے۔داعی کو اس سے بچنا پڑتا ہے کہ دوسروں کی طرح وہ بھی انھیں حقیر سمجھے، جو لوگ غیر اسلامی سماج میں حقیر بنے ہوئے تھے وہ اسلامی حلقہ میں آکر بھی بدستور حقیر بنے رہیں۔

داعی وہ ہے جس کا خدا سے تعلق اتنا بڑھا ہوا ہو کہ رات کی تنہائیوں میں وہ بے قرار ہو کر اپنے بستر سے اٹھ کھڑا ہو۔ اپنے سجدہ گزار ساتھیوں کی قیمت اس کی نظر میں اتنی زیادہ ہو کہ وہ انھیں کو اپنی دلچسپیوں کا مرکز بنالے۔