Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Muhammad 47:21

47:21
طاعة وقول معروف فاذا عزم الامر فلو صدقوا الله لكان خيرا لهم ٢١
طَاعَةٌۭ وَقَوْلٌۭ مَّعْرُوفٌۭ ۚ فَإِذَا عَزَمَ ٱلْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا۟ ٱللَّهَ لَكَانَ خَيْرًۭا لَّهُمْ ٢١
طَاعَةٞ
وَقَوۡلٞ
مَّعۡرُوفٞۚ
فَإِذَا
عَزَمَ
ٱلۡأَمۡرُ
فَلَوۡ
صَدَقُواْ
ٱللَّهَ
لَكَانَ
خَيۡرٗا
لَّهُمۡ
٢١
İnananlar: "Keşke bir süre indirilse de cihada çıksak" derlerdi. Fakat hükmü açık bir süre inip, orada savaş zikredilince, kalblerinde hastalık olanların, ölüm korkusuyla bayılmış kimselerin bakışları gibi, sana baktıklarını gördün. Oysa onlara itaat etmek ve uygun olanı söylemek yaraşırdı. İş ciddileşince Allah'a verdikleri yeminde doğruluk gösterselerdi, onların iyiliğine olurdu.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

طاعۃ وقول معروف (47 : 21) “ وہ اطاعت کریں اور سیدھا رویہ اختیار کر کے بات کریں ”۔ اللہ کے احکام کو اب نفاق کے بجائے دل سے قبول کرلیں۔ اور اللہ پر یقین کر کے اس کے احکام کو مان لیں ۔ اور اس قسم کی باتیں کریں جو بچی ہوں اور سچے دل سے ہوں۔ اور پختہ ضمیر کے مطابق ہوں اور یہ ان کے لئے اب نئے حالات میں زیادہ مفید ہوگا جبکہ اب احکام قطعی ہوگئے ہیں۔ اب تو انہوں نے یا جہاد میں جانا ہے یا پیچھے رہنا ہے۔ لہٰذا عزیمت اور شعور کے ساتھ جہاد کرو۔ اس طرح ان کے دل مضبوط ہوں گے ، ان کا عزم پختہ ہوجائے گا۔ قدم مضبوط ہوں گے ، جہاد ان کو مشقت اور بیگار نہ نظر آئے گا۔ اور جنگ ان کے لئے ایک ایسی بلائے نا گہانی نہ ہوگی جس نے منہ کھولا ہوا ہے۔ جنگ میں گئے کہ اس بلا کے منہ میں پڑے نہیں۔ اگر سچے دل سے جہاد کریں گے تو دو بھلائیوں میں ایک بھلائی تو بہرحال ملے گی۔ یا تو خطرے سے نجات اور فتح ملے گی اور یا شہادت اور جنت ملے گی۔ اور یہ دوسری صورت زیادہ بہتر ہوگی ۔ یہ ہے وہ زاد راہ یعنی حقیقی ایمان جس کے نتیجے میں عزائم جوان اور پاؤں مضبوط اور جزع و فزع مفقود ہوجاتے ہیں اور انسان کو اطمینان اور قرار ثبات ملتا ہے۔

اب ان کو نہایت سختی سے جہاد سے پیچھے رہنے کا انجام بتا یا جاتا ہے کہ اگر انہوں نے اسلام سے منہ موڑ لیا تو انہیں معلوم ہے کہ اسلام سے قبل ان کی حالت کی تھی ۔ تم نے نفاق کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اس میں کتنے فائدے ہیں ؟