Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-A'raf 7:156

7:156
۞ واكتب لنا في هاذه الدنيا حسنة وفي الاخرة انا هدنا اليك قال عذابي اصيب به من اشاء ورحمتي وسعت كل شيء فساكتبها للذين يتقون ويوتون الزكاة والذين هم باياتنا يومنون ١٥٦
۞ وَٱكْتُبْ لَنَا فِى هَـٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ إِنَّا هُدْنَآ إِلَيْكَ ۚ قَالَ عَذَابِىٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنْ أَشَآءُ ۖ وَرَحْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍۢ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَـٰتِنَا يُؤْمِنُونَ ١٥٦
۞ وَٱكۡتُبۡ
لَنَا
فِي
هَٰذِهِ
ٱلدُّنۡيَا
حَسَنَةٗ
وَفِي
ٱلۡأٓخِرَةِ
إِنَّا
هُدۡنَآ
إِلَيۡكَۚ
قَالَ
عَذَابِيٓ
أُصِيبُ
بِهِۦ
مَنۡ
أَشَآءُۖ
وَرَحۡمَتِي
وَسِعَتۡ
كُلَّ
شَيۡءٖۚ
فَسَأَكۡتُبُهَا
لِلَّذِينَ
يَتَّقُونَ
وَيُؤۡتُونَ
ٱلزَّكَوٰةَ
وَٱلَّذِينَ
هُم
بِـَٔايَٰتِنَا
يُؤۡمِنُونَ
١٥٦
"Bu dünyada ve ahirette bizim için güzel olanı yaz; biz Sana yöneldik" dedi. Allah: "Azabıma dilediğim kimseyi uğratırım, rahmetim herşeyi kaplamıştır; bunu Allah'a karşı gelmekten sakınanlara, zekat verenlere, ayetlerimize inanıp, yanlarındaki Tevrat ve İncil'de yazılı buldukları, okuyup yazması olmayan peygambere uyanlara yazacağız. O peygamber, onlara, uygun olanı emreder ve fenalıktan meneder, temiz şeyleri helal, murdar şeyleri haram kılar, onların ağır yüklerini indirir, zor tekliflerini hafifletir. Bu peygambere inanan, hürmet eden, yardım eden, onunla gönderilen nura uyanlar yok mu? İşte onlar saadete erenlerdir" dedi.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
7:154 ile 7:156 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

بنی اسرائیل کے بچھڑا بنانے سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ ان کے اندر خدا پر وہ یقین نہیں ہے جو ہونا چاہیے۔ چنانچہ ان کو پہاڑ پر بلایا گیا۔ حضرت موسیٰ مقرره وقت کے مطابق بنی اسرائیل کے 70نمائندہ افراد کو لے کر دوبارہ کوہ طورپر گئے۔ وہاں خدا نے گرج چمک اور زلزلہ کے ذریعے ایسے حالات پیدا كيے جس سے بنی اسرائیل کے لوگوں کے اندر انابت وخشیت پیداہو۔ چنانچه اس کے بعد وہ خداکے سامنے روئے گڑگڑائے اور اجتماعی توبہ کی۔ انھوںنے عہد کیا کہ وہ تورات کے احکام پر سچائی کے ساتھ عمل کریں گے۔

اس موقع پر حضرت موسیٰ نے دعا کی ’’اے ہمارے رب، ہمارے ليے دنیا اور آخرت میں بھلائی لکھ دے‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا ’’میں جس پر چاہتاہوں اپنا عذاب ڈالتا ہوں، اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے‘‘ حضرت موسی کی دعا بحیثیت مجموعی اپنی پوری امت کے ليے تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے جواب میں واضح کردیا کہ نجات اور کامیابی کوئی گروہی چیز نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ ہر ہر فرد کے ليے اس کے ذاتی عمل کی بنیاد پر ہوتاہے۔ اگر چہ میںتمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحیم ہوں۔ مگر جو شخص عمل صالح کا ثبوت نہ دے وہ میري پکڑ سے بچ نہیں سکتا، خواہ وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو۔

خدا کی کتاب ہدایت ورحمت ہوتی ہے۔ وہ دنیا کی زندگی میں آدمی کے ليے بہترین رہنما ہے اور آخرت میں خدا کی رحمت کا یقینی ذریعہ۔ مگر خدا کی کتاب کا یہ فائدہ صرف اس کو ملتا ہے جو ’’ڈر‘‘ رکھتا ہو، جس کو اندیشہ لگا ہوا ہو کہ معلوم نہیں خدا میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سچے طالب حق ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے جب حق آتاہے تو وہ کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کو پالیتے ہیں۔ اس کے بعد خدا ان کے خوف اور امید کا مرکز بن جاتا ہے۔ ان کا سب کچھ خدا کے ليے وقف ہوجاتا ہے۔ ان کا ڈر ان کے شعور کو بیدار کردیتا ہے۔ ان کی نگاہ سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والی نشانیوں کو پہچاننے میں وہ کبھی نہیں چوکتے۔ وہ اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہیں، نہ کہ قناعت کی نفسیات میں۔