Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Baqarah 2:171

2:171
ومثل الذين كفروا كمثل الذي ينعق بما لا يسمع الا دعاء ونداء صم بكم عمي فهم لا يعقلون ١٧١
وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ كَمَثَلِ ٱلَّذِى يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَآءًۭ وَنِدَآءًۭ ۚ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْىٌۭ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ١٧١
وَمَثَلُ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
كَمَثَلِ
ٱلَّذِي
يَنۡعِقُ
بِمَا
لَا
يَسۡمَعُ
إِلَّا
دُعَآءٗ
وَنِدَآءٗۚ
صُمُّۢ
بُكۡمٌ
عُمۡيٞ
فَهُمۡ
لَا
يَعۡقِلُونَ
١٧١
İnkar edenlerin durumu, çağırma ve bağırmadan başkasını duymayarak haykıran gibidir. Sağırdırlar, dilsizdirler, kördürler, bu yüzden akledemezler.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
2:170 ile 2:171 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
گمراہی اور جہالت کیا ہے؟ ٭٭

یعنی ان کافروں اور مشرکوں سے جب کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پیروی کرو اور اپنی ضلالت وجہالت کو چھوڑ دو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے بڑوں کی راہ لگے ہوئے ہیں جن چیزوں کی وہ پوجا پاٹ کرتے تھے ہم بھی کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے جس کے جواب میں قرآن کہتا ہے کہ وہ تو فہم و ہدایت سے غافل تھے۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں اتری ہے۔

صفحہ نمبر613

پھر ان کی مثال دی کہ جس طرح چرنے چگنے والے جانور اپنے چرواہے کی کوئی بات صحیح طور سے سمجھ نہیں سکتے صرف آواز کانوں میں پڑتی ہے اور کلام کی بھلائی برائی سے بے خبر رہتے ہیں اسی طرح یہ لوگ بھی ہیں۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جن جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اور ان سے اپنی حاجتیں اور مرادیں مانگتے ہیں وہ نہ سنتے ہیں نہ جانتے ہیں نہ ان میں زندگی ہے نہ انہیں کچھ احساس ہے۔ کافروں کی یہ جماعت حق کی باتوں کے سننے سے بہری ہے حق کہنے سے بے زبان ہے حق کے راہ چلنے سے اندھی ہے عقل وفہم سے دور ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ» [ 6-الأنعام: 39 ] ‏ یعنی ہماری باتوں کو جھٹلانے والے بہرے، گونگے اور اندھیرے میں ہیں جسے اللہ چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھی راہ لگا دے۔

صفحہ نمبر614