Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Anfal 8:25

8:25
واتقوا فتنة لا تصيبن الذين ظلموا منكم خاصة واعلموا ان الله شديد العقاب ٢٥
وَٱتَّقُوا۟ فِتْنَةًۭ لَّا تُصِيبَنَّ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنكُمْ خَآصَّةًۭ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ ٢٥
وَٱتَّقُواْ
فِتۡنَةٗ
لَّا
تُصِيبَنَّ
ٱلَّذِينَ
ظَلَمُواْ
مِنكُمۡ
خَآصَّةٗۖ
وَٱعۡلَمُوٓاْ
أَنَّ
ٱللَّهَ
شَدِيدُ
ٱلۡعِقَابِ
٢٥
Aranızdan yalnız zalimlere erişmekle kalmayacak fitneden sakının, Allah'ın azabının şiddetli olduğunu bilin.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

اس کے بعد اہل ایمان کو اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ وہ کہیں جہاد فی سبیل اللہ کے عمل کو چھوڑ نہ دیں اور اس دعوت کو چھوڑ نہ دیں جو آب حیات ہے۔ کیونکہ جہاد کا مطلب دنیا سے منکر کو مٹانا ہے ، جو سب کے لیے مضر ہے۔

فتنہ کیا ہے ؟ ابتلا اور مصیبت فتنہ ہے۔ اور وہ سوسائٹی جو اپنے بعض نادانوں کو کسی بھی صورت میں ظلم کرنے دیتی ہے ، اور ظالموں کی راہ نہیں روکتی ان کا مقابلہ نہیں کرتی ، یہ سوسائٹی اس بات کی مستحق ہے کہ وہ پوری کی پوری فساد کی لپیٹ میں آجائے۔ یاد رہے کہ اسلامی شریعت اور اسلامی نظام کی راہ میں رکاوت ڈالنے سے اور کوئی بڑا فساد نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اسلام ایک نظام ہے جس کے تمام اجزاء ایک دوسرے کے لیے کفیل ہیں۔ یہ ایک مثبت نظام ہے اور یہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کے ماننے والے افراد باہم ظلم کریں اور اس سوسائٹی میں فساد پھیلے چہ جائیکہ اس سوسائٹی میں اللہ کا مکمل دین ہی معطل ہو ، بلکہ اللہ کا اقتدار اعلیٰ ، اس کی حاکمیت اور الوہیت کا انکار ہو۔ اس کی جگہ انسانوں کی بندگی قائم ہو اور یہ سوسائٹی خاموش رہے اور پھر یہ توقع بھی ہو کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو فتنے اور مصیبت سے بچائے گا۔ اس لیے کہ ذاتی طور پر وہ صالح ہیں۔