Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Hajj 22:12

22:12
يدعو من دون الله ما لا يضره وما لا ينفعه ذالك هو الضلال البعيد ١٢
يَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُۥ وَمَا لَا يَنفَعُهُۥ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَـٰلُ ٱلْبَعِيدُ ١٢
يَدۡعُواْ
مِن
دُونِ
ٱللَّهِ
مَا
لَا
يَضُرُّهُۥ
وَمَا
لَا
يَنفَعُهُۥۚ
ذَٰلِكَ
هُوَ
ٱلضَّلَٰلُ
ٱلۡبَعِيدُ
١٢
Allah'ı bırakıp, kendisine fayda da zarar da veremeyen şeylere yalvarır. İşte derin sapıklık budur.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
22:12 ile 22:14 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

خدا کو چھوڑنا ہمیشہ غیرخدا پر بھروسہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی خدا کے سچے راستہ سے ہٹتا ہے یا اس کو نظر انداز کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور چیز پر بھروسہ کيے ہوئے ہوتاہے۔ یہ غیر خدا کبھی کوئی بت ہوتاہے اور کبھی بت کے سوا کوئی دوسری چیز۔

مگر اس دنیا میں ایک خدا کے سوا کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔ اس ليے آدمی جب خدا کے سوا دوسروں پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ طاقت ور کو چھوڑ کر ایسی موہوم چیز کا سہارا پکڑتا ہے جس کا بحیثیت طاقت کوئی وجودنہیں۔ اس سے زیادہ بھول کی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔

مزید یہ کہ اپنے آپ کو خدا کے ساتھ وابستہ کرنا صرف ضرورت کا تقاضا نہیں ہے بلکہ وہ حقیقت کا تقاضا بھی ہے۔ وہ انسان کے اوپر خدا کا حق ہے۔ اس لیے جب آدمی خدا کو چھوڑ کر موہوم چیزوں کی طرف جاتا ہے تو اس کا نقصان فوراً اس کے لیے مقدر ہوجاتا ہے۔ اور جہاں تک اس کے نفع کا سوا ل ہے وہ تو کبھی ملنے والا نہیں۔

غیر خدا کو سہارا بنانے والے بظاہر اس کو اپنے سے اونچا سمجھتے ہیں۔ ورنہ وہ اس کو سہارا ہی نہ بنائیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ غیر خدا جس کو سہارا بنایا جائے اور وہ لوگ جو انھیں اپناسہارا بنائیں دونوں یکساں درجہ میں مجبور اور بے طاقت ہیں۔

ایسی دنیا میں جو لوگ اس کا ثبوت دیں کہ انھوں نے ماحول سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ غیر خداؤں کے پرفریب ہجوم میں انھوں نے خداکو دریافت کیا۔ اورپھر صرف آخرت کی خاطر اپنی زندگی کو خدا کی پسند کے راستے پر ڈال دیا وہ اس دنیا کی سب سے قیمتی روحیں ہیں۔ خدا ان کی اس طرح قدر دانی کرے گا کہ ان کو جنت کی کامل دنیا میں بسائے گا۔ جہاں وہ ابدی طور پر عیش کرتے رہیں۔