Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Hajj 22:26

22:26
واذ بوانا لابراهيم مكان البيت ان لا تشرك بي شييا وطهر بيتي للطايفين والقايمين والركع السجود ٢٦
وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَٰهِيمَ مَكَانَ ٱلْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِى شَيْـًۭٔا وَطَهِّرْ بَيْتِىَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلْقَآئِمِينَ وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ ٢٦
وَإِذۡ
بَوَّأۡنَا
لِإِبۡرَٰهِيمَ
مَكَانَ
ٱلۡبَيۡتِ
أَن
لَّا
تُشۡرِكۡ
بِي
شَيۡـٔٗا
وَطَهِّرۡ
بَيۡتِيَ
لِلطَّآئِفِينَ
وَٱلۡقَآئِمِينَ
وَٱلرُّكَّعِ
ٱلسُّجُودِ
٢٦
"Bana hiçbir şeyi ortak koşma; tavaf edenler, orada kıyama duranlar, rüku edenler ve secdeye varanlar için Evimi temiz tut" diye İbrahim'i Kabe'nin yerine yerleştirmiştik.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

حضرت ابراہیم کا زمانہ چارہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں ساری آباد نيا میں مشرکانہ مذہب چھایا ہوا تھا۔ حتی کہ شرک کے عمومی غلبہ کی وجہ سے تاریخ میں شرک کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب یہ نوبت آگئی کہ جو بچہ پیدا ہو وہ اپنے ماحول سے صرف شرک کا سبق لے۔

حضرت ابراہیم عراق میںپیدا ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ وہ عراق اور شام اور مصر جیسے آباد علاقوں کو چھوڑ کر حجاز کے غیر آباد علاقے میں چلے جائیں اور وہاں اپنی اولاد کو بسا دیں۔ غیر آباد علاقے میں بسانے کا مقصد یہ تھا کہ یہاں الگ تھلگ دنیا میں ایک ایسی نسل پیدا ہو جو شرک سے منقطع ہو کر پرورش پاسکے۔ حضرت ابراہیم نے اسی خدائی منصوبے کے تحت اپنی اولاد کو موجودہ مکہ میں لاکر بسا دیا جو اس وقت یکسر غیر آباد تھی۔ اسی کے ساتھ حضرت ابراہیم نے ایک مسجد (خانہ کعبہ) کی تعمیر کی تاکہ وہ اس نئی نسل کے ليے اور بالآخر ساری دنیا کے لیے ایک خدا کی عبادت کا مرکز بن سکے۔