Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Hajj 22:60

22:60
۞ ذالك ومن عاقب بمثل ما عوقب به ثم بغي عليه لينصرنه الله ان الله لعفو غفور ٦٠
۞ ذَٰلِكَ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوقِبَ بِهِۦ ثُمَّ بُغِىَ عَلَيْهِ لَيَنصُرَنَّهُ ٱللَّهُ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌۭ ٦٠
۞ ذَٰلِكَۖ
وَمَنۡ
عَاقَبَ
بِمِثۡلِ
مَا
عُوقِبَ
بِهِۦ
ثُمَّ
بُغِيَ
عَلَيۡهِ
لَيَنصُرَنَّهُ
ٱللَّهُۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
لَعَفُوٌّ
غَفُورٞ
٦٠
Bu böyledir; kim kendisine verilen kadar ceza verirse ve kendisine yine de saldırılırsa, Allah ona, and olsun ki yardım edecektir. Allah şüphesiz, affeder ve bağışlar.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

ذلک ……غفور (06)

اس نصرت کی شرط یہ ہے کہ سزا بطور قصاص دی گئی ہو ، اس میں زیادتی نہ ہو اور نہ ہی سرکشی کر کے سزا کو ظلم سے بدل دیا گیا ہو۔ سزا میں غلونہ کیا گیا ہو۔

اس سزا کے جواز کے بعد یہ جملہ آیا ہے کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔ اللہ ہر جرم کو معاف بھی کرسکتا ہے لیکن انسانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بعض اوقات کسی قیمت پر جرم کو معاف نہیں کرتے اور قصاص اور سزا کے نفاذ کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن اللہ نے ان کو یہ حق دیا ہے۔ معاف نہ کرنا انسان کی بشری کمزوری ہے۔

ایک شخص پر ظلم ہو ، وہ اس کے بدلے متوازن قصاص لے ، لیکن ظالم اگر پھر ظلم پر اتر آئے تو اللہ کی نصرت کا وعدہ اس شخص کے ساتھ ہے جس نے قصاص لیا۔ ظالم اور باغی کے ساتھ نہیں ہے لیکن اس وعدے کو اللہ تعالیٰ اس کائنات کے تکوینی نوامیس قدرت کے ساتھ مربوط کرتے ہیں ، یہ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ کائناتی قوانین قدرت اس بات پر گواہ ہیں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور وہ نصرت کرسکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جس طرح یہ قوانین قدرت اٹل ہیں اور نہایت باریکی سے اپنے فرائض کو پورا کر رہے ہیں اسی طرح اللہ کی نصرت بھی ایک کائناتی حقیقت ہے۔ اس میں یہ ممکن ہی نہیں کہ ایسا نہ ہو۔