Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Hajj 22:78

22:78
وجاهدوا في الله حق جهاده هو اجتباكم وما جعل عليكم في الدين من حرج ملة ابيكم ابراهيم هو سماكم المسلمين من قبل وفي هاذا ليكون الرسول شهيدا عليكم وتكونوا شهداء على الناس فاقيموا الصلاة واتوا الزكاة واعتصموا بالله هو مولاكم فنعم المولى ونعم النصير ٧٨
وَجَـٰهِدُوا۟ فِى ٱللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِۦ ۚ هُوَ ٱجْتَبَىٰكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِى ٱلدِّينِ مِنْ حَرَجٍۢ ۚ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَٰهِيمَ ۚ هُوَ سَمَّىٰكُمُ ٱلْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِى هَـٰذَا لِيَكُونَ ٱلرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا۟ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ ۚ فَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱعْتَصِمُوا۟ بِٱللَّهِ هُوَ مَوْلَىٰكُمْ ۖ فَنِعْمَ ٱلْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ ٱلنَّصِيرُ ٧٨
وَجَٰهِدُواْ
فِي
ٱللَّهِ
حَقَّ
جِهَادِهِۦۚ
هُوَ
ٱجۡتَبَىٰكُمۡ
وَمَا
جَعَلَ
عَلَيۡكُمۡ
فِي
ٱلدِّينِ
مِنۡ
حَرَجٖۚ
مِّلَّةَ
أَبِيكُمۡ
إِبۡرَٰهِيمَۚ
هُوَ
سَمَّىٰكُمُ
ٱلۡمُسۡلِمِينَ
مِن
قَبۡلُ
وَفِي
هَٰذَا
لِيَكُونَ
ٱلرَّسُولُ
شَهِيدًا
عَلَيۡكُمۡ
وَتَكُونُواْ
شُهَدَآءَ
عَلَى
ٱلنَّاسِۚ
فَأَقِيمُواْ
ٱلصَّلَوٰةَ
وَءَاتُواْ
ٱلزَّكَوٰةَ
وَٱعۡتَصِمُواْ
بِٱللَّهِ
هُوَ
مَوۡلَىٰكُمۡۖ
فَنِعۡمَ
ٱلۡمَوۡلَىٰ
وَنِعۡمَ
ٱلنَّصِيرُ
٧٨
Allah uğrunda gereği gibi cihat edin. O, sizi seçmiş, babanız İbrahim'in yolu olan dinde sizin için bir zorluk kılmamıştır. Daha önce ve Kuran'da, peygamberin size şahit olması, sizin de insanlara şahit olmanız için size müslüman adını veren O'dur. Artık, namaz kılın, zekat verin, Allah'a sarılın. O sizin sahibinizdir. Ne güzel sahip ve ne güzel yardımcıdır!
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
22:77 ile 22:78 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

اس آیت کا خطاب اصلاً اصحابِ رسول سے اور تبعاً تمام مومنین قرآن سے ہے۔اس گروہ کو خدا نے اس خاص کام کے ليے منتخب کیا ہے کہ وہ قیامت تک تمام قوموں کو خدا کے سچے اور حقیقی دین سے باخبر کرتا رہے۔ رسول نے یہی عملِ شہادت اپنے زمانے کے لوگوں پر کیا۔ اور آپ کے پیروؤں کو یہی عمل بعد کو اپنے ہم زمانہ لوگوں پر انجام دینا ہے۔

یہ کام ایک بے حد نازک کام ہے۔ اس کے ليے مجاہدانہ عمل درکار ہے۔ اس کو صرف وہی لوگ حقیقی طورپر انجام دے سکتے ہیں، جو صحیح معنوں میں خداکے آگے جھکنے والے بن گئے ہوں۔ جو دوسروں کے اتنے زیادہ خیر خواہ ہوں کہ اپنا وقت اور اپنا پیسہ ان کے ليے خرچ کرنے میں خوشی محسوس کریں۔ جو ہر د وسری چیز سے اوپر اٹھ کر صرف ایک خدا پر بھروسہ کرنے والے بن گئے ہوں۔ جو حقیقی معنوںمیں لفظ ’’مسلم‘‘ کا مصداق ہوں جو ان کے ليے خصوصی طورپر وضع کیاگیا ہے۔

تاہم اس کارِ شہادت کے ساتھ خدا نے ایک خاص معاملہ یہ کیا ہے کہ اس کی راہ کی خارجی رکاوٹوں کو ہمیشہ کے ليے دور کردیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں ایسا انقلاب لایا گیا ہے جس نے ان رکا وٹوں کو ہمیشہ کے ليے ختم کردیا، جن کا سابقہ پچھلے نبیوں اور ان کی امتوں کو پیش آتا تھا۔ اب اس کام کے ليے حقیقی رکاوٹ کوئی نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ قرآن کے حاملین خود ہی اپنی نادانی سے اپنی راہ میں خود ساختہ مشکلیں پیدا کرلیں اور ایک آسان کام کو مصنوعی طورپر مشکل کام بنا ڈالیں۔