Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Isra 17:108

17:108
ويقولون سبحان ربنا ان كان وعد ربنا لمفعولا ١٠٨
وَيَقُولُونَ سُبْحَـٰنَ رَبِّنَآ إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًۭا ١٠٨
وَيَقُولُونَ
سُبۡحَٰنَ
رَبِّنَآ
إِن
كَانَ
وَعۡدُ
رَبِّنَا
لَمَفۡعُولٗا
١٠٨
De ki: "Kuran'a ister inanın, isten inanmayın, O'ndan önceki bilginlere o okunduğu zaman, yüzleri üzerine secdeye varırlar" ve "Rabbimiz münezzehtir. Rabbimiz'in sözü şüphesiz yerine gelecektir" derler.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
17:107 ile 17:109 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

خدا کا کلام انسان سے عجزو تواضع کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں خدا اپنا کلام خود سنانے نہیں آتا۔ وہ ایک ’’انسان‘‘ کی زبان سے اپنا کلام جاری کراتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر کبر کی نفسیات لیے ہوئے ہیں، وہ اس کے آگے جھکنے کو ایک انسان کے آگے جھکنے کے ہم معنی بنا لیتے ہیں اور اس بنا پر اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔

اس کے برعکس، جو لوگ کبر کی نفسیات سے خالی ہوں وہ خدا کے کلام کو بس خدا کے کلام کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ ان کو انسان کی زبان سے جاری ہونے والے کلام میں خدا کی جھلکیاں نظر آجاتی ہیں۔ وہ اس کے ذریعہ خدا سے مربوط ہوجاتے ہیں۔ وہ خداکی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے عجز کو اور اپنے عجز کے مقابلہ میں خدا کی بڑائی کو پالیتے ہیں۔ یہ احساس ان کے سینے کو پگھلادیتا ہے۔ وہ روتے ہوئے اس کے آگے سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔

پہلی قسم کے آدمیوں کی مثال قریش کے سرداروں کی ہے۔ اور دوسری قسم کے آدمیوں کی مثال اہلِ کتاب کے ان مومنین کی جو دورِ اول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔

اس آیت میں بظاہر صالحین اہلِ کتاب کا ذکر ہے۔ انھوں نے قدیم آسمانی صحیفوں میں پڑھا تھا کہ ایک آخری پیغمبر آنے والے ہیں۔ جو لوگ ان پر ایمان لائیں گے اور ان کا ساتھ دیں گے وہ خدا کی خصوصی رحمت کے مستحق قرار پائیںگے۔ اس بنا پر وہ اس آخری نبی کا پہلے سے انتظار کررہے تھے۔ یہ انتظار اتنا شدید تھا کہ جب وہ پیغمبر آیا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا۔ ان کا یہ حال ہوا کہ اس پیغمبر کی لائی ہوئی کتاب (قرآن) کو جب وہ پڑھتے تو شدت احساس سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے اور وہ روتے ہوئے خدا کے آگے سجدہ میں گرجاتے۔

تاہم یہ صرف اہلِ کتاب کے ایک گروہ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ سارے انسانوں کا معاملہ ہے۔ ہرانسان کے اندر خدا نے پیشگی طورپر حق کی معرفت رکھ دی ہے، گویا کہ ہر انسان پہلے ہی سے خدائی سچائی کا منتظر ہے۔ اب جو لوگ اپنی اس فطرت کو زندہ رکھیں ان کا وہی حال ہوگا جو سابق اہل کتاب کا ہوا۔ وہ اپنی فطرت کے زندہ شعور کی بناپر خدائی سچائی کو پہچان لیں گے اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کی طرف بے تابانہ دوڑ پڑیںگے۔