Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Isra 17:15

17:15
من اهتدى فانما يهتدي لنفسه ومن ضل فانما يضل عليها ولا تزر وازرة وزر اخرى وما كنا معذبين حتى نبعث رسولا ١٥
مَّنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌۭ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًۭا ١٥
مَّنِ
ٱهۡتَدَىٰ
فَإِنَّمَا
يَهۡتَدِي
لِنَفۡسِهِۦۖ
وَمَن
ضَلَّ
فَإِنَّمَا
يَضِلُّ
عَلَيۡهَاۚ
وَلَا
تَزِرُ
وَازِرَةٞ
وِزۡرَ
أُخۡرَىٰۗ
وَمَا
كُنَّا
مُعَذِّبِينَ
حَتَّىٰ
نَبۡعَثَ
رَسُولٗا
١٥
Kim doğru yola gelirse ancak kendi lehine yola gelmiş ve kim de saparsa ancak kendi aleyhine sapmıştır. Kimse kimsenin günahını çekmez. Biz peygamber göndermedikçe kimseye azabetmeyiz.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
17:13 ile 17:15 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

قدیم زمانہ میں توہم پرست لوگ اکثر چڑیوں کے اڑنے سے یا ستاروں کی گردش سے یا طرح طرح کے فال سے اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ اس قسم کے توہمات پر یقین نہیں رکھتے وہ بھی اپنی قسمت کے معاملہ کو کسی نہ کسی پر اسرار سبب کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی خارجی عامل ہے جو اس سلسلے میں اصل موثر حیثیت رکھتا ہے۔

فرمایا کہ تمھاری قسمت نہ چڑیوں اور ستاروں کے ساتھ وابستہ ہے اور نہ کسی دوسری خارجی چیز سے اس کا تعلق ہے۔ ہر آدمی کی قسمت کا معاملہ تمام تر اس کے اپنے عمل پر منحصر ہے۔ ہر آدمی جو کچھ سوچتا یا کرتا ہے وہ اس کے اپنے وجود کے ساتھ نقش ہورہا ہے۔ آدمی اس کو قیامت کے دن ایک ایسی ڈائری کی صورت میں لکھا ہواپائے گا جس میں ہر چھوٹی اور بڑی چیز درج ہو۔

خدا نے قوموں کے درمیان رسول کھڑے کيے اور کتاب اتاری۔ اس نے ایسا اس لیے کیا تا کہ لوگوں کو آنے والے سخت دن سے پہلے اس کی خبر ہوجائے۔ اب یہ ہر آدمی کے اپنے فیصلہ کرنے کی بات ہے کہ زندگی کے اگلے مستقل مرحلہ میں وہ اپنا کیا انجام دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ ہدایت کے طریقہ پر چل کر جنت میں پہنچنا چاہتا ہے یا ہدایت کے طریقہ کو چھوڑ کر جہنم میں گرنے کا سامان کررہا ہے۔