Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Isra 17:17

17:17
وكم اهلكنا من القرون من بعد نوح وكفى بربك بذنوب عباده خبيرا بصيرا ١٧
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ ٱلْقُرُونِ مِنۢ بَعْدِ نُوحٍۢ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرًۢا بَصِيرًۭا ١٧
وَكَمۡ
أَهۡلَكۡنَا
مِنَ
ٱلۡقُرُونِ
مِنۢ
بَعۡدِ
نُوحٖۗ
وَكَفَىٰ
بِرَبِّكَ
بِذُنُوبِ
عِبَادِهِۦ
خَبِيرَۢا
بَصِيرٗا
١٧
Nuh'dan sonra nice nesilleri yok etmişizdir. Kullarının günahlarından haberdar ve onları gören olarak Rabbin yeter.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
17:16 ile 17:17 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

کسی قوم کی اصلاح یا کسی قوم کے بگاڑ کا معیار اس قوم کا سربرآوردہ طبقہ ہوتاہے۔ یہی طبقہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا مالک ہوتاہے۔ یہی طبقہ اپنے وسائل کے ذریعے لوگوںپر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہی طبقہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ کسی گروہ کے اوپر قائد بننے کی قیمت ادا کرسکے۔

یہی وجہ ہے کہ کسی قوم کے سربرآوردہ طبقہ کي اصلاح پوری قوم کی اصلاح ہے اور کسی قوم کے سربرآوردہ طبقہ کا بگاڑ پوری قوم کا بگاڑ۔ حضرت نوح کے زمانہ سے لے کر اب تک کی قوموں کا جائزہ لیا جائے تو ہر ایک کی تاریخ اس عام اصول کی صحت کی تصدیق کرے گی۔

اسی عام حکم میں قوم کے ان ’’بڑوں‘‘ کا معاملہ بھی شامل ہے جو قوم کو اپنی قیادت کی شکار گاہ بناتے ہیں، اور اس طرح اس کی غلط رہنمائی کرکے اس کی ہلاکت کا سامان کرتے ہیں۔ وہ قوم کو حقیقت پسندی کے بجائے جذباتیت کا درس دیتے ہیں۔ اس کو معانی کے بجائے الفاظ کے طلسم میں گم کرتے ہیں۔ اس کو سنجیدگی کے بجائے تخیلات کی فضا میں اڑاتے ہیں۔ وہ اس کو حقائق کا اعتراف کرنے کے بجائے خوش خیالیوں میں جینا سکھاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ وہ قوم کو خدا کے بجائے غیر خدا کی طرف متوجہ کردیتے ہیں۔

جب کسی قوم پر اس قسم کے رہنما چھا جائیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کے یہاں سے اس قوم کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس قسم کا ہر واقعہ خدا کی اجازت کے تحت ہوتاہے۔ اور کسی شخص یا قوم کا کوئی عمل خدا سے چھپا ہوا نہیں ہے۔