Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Isra 17:50

17:50
۞ قل كونوا حجارة او حديدا ٥٠
۞ قُلْ كُونُوا۟ حِجَارَةً أَوْ حَدِيدًا ٥٠
۞ قُلۡ
كُونُواْ
حِجَارَةً
أَوۡ
حَدِيدًا
٥٠
De ki: "İster taş veya demir ya da kalbinizde büyüttüğünüz başka bir yaratık olun, yine de dirileceksiniz." "Bizi tekrar kim diriltir?" derler; de ki: "Sizi ilk defa yaratan." Sana başlarını sallayarak: "Ne zamandır bu?" derler. "Yakında olması mümkündür" de.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
17:49 ile 17:52 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

انسان کا وجود اول واضح طور پر اس کے وجود ثانی کو ممکن ثابت کرتاہے۔ جو شخص انسان کی پہلی پیدائش کو بطور واقعہ مانتا ہو، اس کے پاس کوئی حقیقی دلیل نہیں جس سے وہ انسان کی دوسری پیدائش کے امکان کو نہ مانے۔

پھر یہ کہ انسان کی پیدائشِ ثانی، کم ازکم ان لوگوں کے لیے ہر گز مستبعد نہیں جو انسان کو پتھر اور لوہا (بالفاظ دیگر مادی اشیاء کا مجموعہ) سمجھتے ہیں کیوں کہ جسم کے خليات(cells) کے ٹوٹنے کے ساتھ اسی معلوم دنیا میں یہ واقعہ ہورہاہے کہ آدمی کا مادی وجود مسلسل ختم ہوتا ہے اور پھر دوبارہ بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حشر ونشر اسی واقعہ کو موت کے بعد ماننا ہے جس کا موت سے پہلے ہم بار بار تجربہ کررہے ہیں۔

قیامت دراصل اسی دن کا نام ہے جب کہ غیب کا پردہ پھٹ جائے اور خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ بالکل سامنے آجائے۔ جب ایسا ہوگا تو منکر بھی وہی کرنے پر مجبور ہوگا جو آج صرف سچا مومن کرپاتاہے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کے کمالات کااقرار کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔