Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Isra 17:53

17:53
وقل لعبادي يقولوا التي هي احسن ان الشيطان ينزغ بينهم ان الشيطان كان للانسان عدوا مبينا ٥٣
وَقُل لِّعِبَادِى يَقُولُوا۟ ٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ كَانَ لِلْإِنسَـٰنِ عَدُوًّۭا مُّبِينًۭا ٥٣
وَقُل
لِّعِبَادِي
يَقُولُواْ
ٱلَّتِي
هِيَ
أَحۡسَنُۚ
إِنَّ
ٱلشَّيۡطَٰنَ
يَنزَغُ
بَيۡنَهُمۡۚ
إِنَّ
ٱلشَّيۡطَٰنَ
كَانَ
لِلۡإِنسَٰنِ
عَدُوّٗا
مُّبِينٗا
٥٣
İnanan kullarıma söyle, en güzel şekilde konuşsunlar. Doğrusu şeytan aralarını bozmak ister. Şeytan şüphesiz insanın apaçık düşmanıdır.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ منہ سے وہی بات نکالا کریں جو بہتر ہو۔ ہر حال میں بہترین بات سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ کیونکہ بری بات سے لوگوں کا دل دکھتا ہے اور شیطان کا مسلمانوں کے خلاف سب سے بڑا حربہ یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کے درمیان رخنہ ڈال دے۔ اور اس سے وہ صرف اس صورت میں بچ سکتے ہیں کہ وہ اچھی بات کریں۔ اگر کوئی بری بات منہ سے نکل جائے تو جواب بھی برا ہوگا۔ یوں نزاع شروع ہوجائے گا اور محبت اور آشتی کی فضا نہ رہے گی۔ سختی پیدا ہوگی ، پھر دشمنی ہوجائے گی۔ جبکہ اچھی بات سے دلوں کے زخم مند مل ہوجاتے ہیں اور دلوں کو خشکی اور سختی میں لچک پیدا ہوتی ہے۔ اور آخر کار اچھے کلمات سے محبت پیدا ہوجاتی ہے۔

ان الشیطن کان للانسان عدوا مبینا (71 : 35) ” حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے “۔ شیان تاک میں رہتا ہے کہ کسی کے منہ سے بری بات نکلے ، اس کی زبان لغزش کرے اور یوں اسے بغض وعداوت کی آگ بھڑکانے کا موقعہ مل جائے اور بھائی بھائی کا دشمن ہوجائے ، جبکہ بھلی بات سے رخنے بھر جاتے ہیں ، شیان کی راہ بند ہوجاتی ہے اور اسلامی اخوت شیطان کی وسوسہ اندازیوں اور رخنہ پردازیوں سے مامون ہوجاتی ہے۔

اس کے بعد روئے سخن اب انسانوں کے انجام کی طرف مڑ جاتا ہے۔ قیامت کے دن اللہ کی ایک آواز پر یہ لوگ جمع ہوجائیں گے۔ اس دن ان کا نظام خالص اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس دن کوئی شریک نہ ہوگا۔ اللہ چاہے گا تو رحم کرے گا ، چاہے گا تو سزا گا ، اب لوگوں کا انجام اللہ ہی کے فیصلے پر ہوگا۔ اب تو رسول بھی ان کے لئے وکیل نہ ہوگا۔ وہ تو رسول تھا۔