Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Isra 17:74

17:74
ولولا ان ثبتناك لقد كدت تركن اليهم شييا قليلا ٧٤
وَلَوْلَآ أَن ثَبَّتْنَـٰكَ لَقَدْ كِدتَّ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْـًۭٔا قَلِيلًا ٧٤
وَلَوۡلَآ
أَن
ثَبَّتۡنَٰكَ
لَقَدۡ
كِدتَّ
تَرۡكَنُ
إِلَيۡهِمۡ
شَيۡـٔٗا
قَلِيلًا
٧٤
Sana sebat vermemiş olsaydık, and olsun ki, az da olsa onlara meyledecektin.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
17:73 ile 17:75 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا اصل نکتہ یہ تھا کہ خدا صرف ایک ہے اور اس کے سوا جن بتوں کو تم پوجتے ہو وہ سب باطل ہیں۔ اہل مکہ اگرچہ ایک بڑے خدا کا اقرار کرتے تھے مگر اسی کے ساتھ وہ دوسرے خداؤں کو بھی مانتے تھے۔

یہ دوسرے خدا کون تھے۔ یہ ان کے بزرگ اور اکابر تھے جن کو وہ مقدس سمجھتے تھے اور ان کی سنگی تصویریں بنا کر ان کے سامنے جھکنا شروع کردیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید سے بزرگوں کے اس عقیدہ پر زد پڑتی تھی۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مصالحت کے لیے کہتے تھے کہ ہم آپ کے معبود کو مانیں گے، شرط یہ ہے کہ آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنا کہنا چھوڑ دیں (مساومتهم له أن يعبدوا إلهه مقابل أن يترك التنديد بآلهتهم وما كان عليه آباؤهم) صفوۃ التفاسیر، جلد2، صفحہ 157 ۔

اس دنیا میں وہ شخص فوراً لوگوں کی نظر میں مبغوض ہوجاتا ہے جو ایسی بات کہے جس کی زد لوگوںکے بڑوں پر پڑتی ہو۔ اس کے برعکس، لوگوں کے درمیان محبوب بننے کا سب سے زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ ایسی بات کہو جس میں سب لوگ اپنے اپنے بزرگوں کی تصدیق پارہے ہوں۔ مگر پیغمبر کا طریقہ یہ ہے کہ سچائی کا کھلا اعلان کیا جائے۔ اس کی پروانہ کی جائے کہ کس بزرگ پر اس کی زد پڑتی ہے اور کس پر نہیں پڑتی۔

دعوتی عمل سے اصل مقصود حقیقت کا کامل اعلان ہے۔ اسی لیے اعلان کے معاملہ میںکسی کمی یا رعایت کی اجازت نہیں ہے۔ پیغمبر یا غیر پیغمبر، جو بھی دعوتِ حق کے لیے اٹھے اس کو حقیقت کا واشگاف اعلان کرنا ہے، خواہ اس کی یہ قیمت دینی پڑے کہ دنیا میں اس کا کوئی دوست باقی نہ رہے۔