Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Qasas 28:80

28:80
وقال الذين اوتوا العلم ويلكم ثواب الله خير لمن امن وعمل صالحا ولا يلقاها الا الصابرون ٨٠
وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ لِّمَنْ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَـٰلِحًۭا وَلَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ٱلصَّـٰبِرُونَ ٨٠
وَقَالَ
ٱلَّذِينَ
أُوتُواْ
ٱلۡعِلۡمَ
وَيۡلَكُمۡ
ثَوَابُ
ٱللَّهِ
خَيۡرٞ
لِّمَنۡ
ءَامَنَ
وَعَمِلَ
صَٰلِحٗاۚ
وَلَا
يُلَقَّىٰهَآ
إِلَّا
ٱلصَّٰبِرُونَ
٨٠
Kendilerine ilim verilmiş olanlar ise: "Size yazıklar olsun; Allah'ın mükafatı, inanıp yararlı iş işleyenler için daha iyidir. Ona da ancak sabredenler kavuşabilir" demişlerdi.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
28:79 ile 28:80 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
سامان تعیش کی فروانی ٭٭

قارون ایک دن نہایت قیمتی پوشاک پہن کر زرق برق عمدہ سواری پرسوار ہو کر اپنے غلاموں کو آگے پیچھے بیش بہا پوشاکیں پہنائے ہوئے لے کر بڑے ٹھاٹھ سے اتراتا ہوا اکڑتا ہوا نکلا اس کا یہ ٹھاٹھ اور یہ زینت وتجمل دیکھ کر دنیا داروں کے منہ میں پانی بھر آیا اور کہنے لگے کاش کہ ہمارے پاس بھی اس جتنا مال ہوتا۔ یہ تو بڑا خوش نصیب ہے اور بڑی قسمت والا ہے۔

علماء کرام نے ان کی یہ بات سن کر انہیں اس خیال سے روکنا چاہا اور انہیں سمجھانے لگے کہ دیکھو اللہ نے جو کچھ اپنے مومن اور نیک بندوں کے لیے اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے وہ اس سے کروڑہا درجہ بارونق دیرپا اور عمدہ ہے۔ تمہیں ان درجات کو حاصل کرنے کے لیے اس دو روزہ زندگی کو صبر وبرداشت سے گزارنا چاہیئے جنت صابروں کا حصہ ہے یہ مطلب بھی ہے کہ ایسے پاک کلمے صبر کرنے والوں کی زبان ہی سے نکلتے ہیں جو دنیا کی محبت سے دور اور دار آخرت کی محبت میں چور ہوتے ہیں اس صورت میں ممکن ہے کہ یہ کلام ان واعظوں کا نہ ہو بلکہ ان کے کام کی اور ان کی تعریف میں یہ جملہ اللہ کی طرف سے خبر ہو۔

صفحہ نمبر6638