Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Kahf 18:104

18:104
الذين ضل سعيهم في الحياة الدنيا وهم يحسبون انهم يحسنون صنعا ١٠٤
ٱلَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا ١٠٤
ٱلَّذِينَ
ضَلَّ
سَعۡيُهُمۡ
فِي
ٱلۡحَيَوٰةِ
ٱلدُّنۡيَا
وَهُمۡ
يَحۡسَبُونَ
أَنَّهُمۡ
يُحۡسِنُونَ
صُنۡعًا
١٠٤
Dünya hayatında, çalışmaları boşa gitmiştir, oysa onlar güzel iş yaptıklarını sanıyorlardı.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
18:103 ile 18:106 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

آدمی دنیا میں عمل کرتاہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے عمل کا نتیجہ عزت اور دولت کی صورت میں اس کو مل رہا ہے۔ اپنا کوئی کام اس کو بگڑتا ہوا نظر نہیں آتا۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں کامیاب ہوں۔

مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ خدا کے نقشہ میں زندگی کی کامیابی کا معیار آخرت ہے۔ ایسی حالت میں دنیا کی ترقی کو ترقی سمجھنا خدا کے نقشہ کے خلاف اپنا نقشہ بنانا ہے۔ یہ آخرت کو حذف کرکے زندگی کے مسئلہ کو دیکھنا ہے۔ ظاہر ہے ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

خدا اپنی نشانیاں ظاہر کرتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے ذہن کو دنیا میں لگائے ہوئے ہوں وہ آخرت کی نشانیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ خدا اپنے دلائل کھولتا ہے مگر جو لوگ دنیا کی باتوں میں گم ہوں ان کو آخرت کی دلیلیں اپیل نہیں کرتیں۔ ایسے لوگ ہدایت کے کنارے کھڑے ہو کر بھی ہدایت کو قبول کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ انھوںنے خدا کی باتوں کو وزن نہیں دیا۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو اپنے یہاں کسی وزن کا مستحق سمجھے۔