Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Muddaththir 74:2

74:2
قم فانذر ٢
قُمْ فَأَنذِرْ ٢
قُمۡ
فَأَنذِرۡ
٢
Kalk da uyar.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
74:1 ile 74:2 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

یہ عالم بالا کی بہت ہی اہم آواز ہے۔ اور اس نہایت ہی اہم معاملے کے بارے میں ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ انسانوں کو ڈرانا ہے ، ان کو جگانا اور بیدار کرنا ہے اور دنیا میں ان کو شر و فساد سے بچانا ہے اور آخرت میں آگ سے بچانا ہے۔ اور وقت ختم ہونے سے قبل ہی نجات کا طریقہ اور امتحان میں کامیابی کی حکمت بتانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی بڑی ذمہ داری ہے خصوصاً جبکہ یہ ذمہ داری ایک فرد بشر کے کاندھوں پر ڈال دی جائے۔ اگرچہ یہ فردو بشر نبی اور رسول ہو ، کیونکہ انسان اس قدر گمراہ ، سرکش ، باغی ، نافرمان ، معاند ، کج رو اور اپنے روبہ پر اصرار کرنے والا ہے کہ کسی انسان کے لئے اس کی اصلاح کا کام بہت ہی مشکل کام ہے۔ دنیا کے مشکل سے مشکل کام کے مقابلے میں بھی یہ زیادہ مشکل تر کام ہے۔

یایھا المدثر (1) قم فانذر (74:2) ” اے اوڑھ لپیٹ کرلیٹنے والے ، اٹھو اور خبردار کرو “۔ رسالت کے فرائض میں سب سے بڑا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو برے انجام سے ڈرایا جائے۔ اور ان کو متنبہ کیا جائے کہ خطرہ بہت قریب ہے۔ اور عذاب ان لوگوں کے لئے گھات میں بیٹھا ہوا ہے جو غافل ہیں اور جو بری راہوں پر سرپٹ دوڑ رہے ہیں اور ان کو خطرے کا کوئی شعور اور احساس نہیں ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کو اپنے بندوں سے کس قدر زیادہ ہمدردی ہے اور وہ کس قدر رحیم ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ اگر سب کے سب انسان گمراہ ہوجائیں تو وہ اللہ کی بادشاہت میں ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتے اور اگر یہ سب کے سب ہدایت پر آجائیں تو اللہ کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ اللہ کا رحم وکرم ہے کہ وہ ان کو آخرت کے درد ناک عذاب سے بچانے کے لئے اب قدر انتظامات کرتا ہے۔ دنیا میں لوگوں کو شر سے بچاتا ہے۔ اور رسولوں کو بھیجتا ہے کہ آﺅ میں تمہیں بخش دوں گا اور اپنے فضل وکرم سے جنت میں داخل کردوں۔