Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Mu'minun 23:103

23:103
ومن خفت موازينه فاولايك الذين خسروا انفسهم في جهنم خالدون ١٠٣
وَمَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فِى جَهَنَّمَ خَـٰلِدُونَ ١٠٣
وَمَنۡ
خَفَّتۡ
مَوَٰزِينُهُۥ
فَأُوْلَٰٓئِكَ
ٱلَّذِينَ
خَسِرُوٓاْ
أَنفُسَهُمۡ
فِي
جَهَنَّمَ
خَٰلِدُونَ
١٠٣
Tartıları hafif gelenler, işte onlar, kendilerine yazık edendir, cehennemde temellidirler.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
23:102 ile 23:104 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

فمن ثقلت۔۔۔۔۔۔ کلحون (102 : 104) یہ کہ تمام اعمال کو ترازو میں تولا جائے گا ‘ یہ بھی قرآن مجید کا ایک مخصوص انداز کلام ہے کہ وہ کسی بھی مفہوم کو حسی انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ نہایت ہی مجرد معانی کو ہر شخص سمجھ جائے۔

نیز ان اعمال کے ساتھ ذرادیکھئے کہ ان کے چہروں پر سے آگ گوشت کو چاٹ جائے گی اور وہ اس طرح نظر آرہے ہو نگے جس طرح کسی مردے کے منہ کی ہڈیاں نظر آتی ہیں ‘ دانت نکلے ہوئے۔

یہ لوگ ہیں جن کا میزان اعمال ہلکا ہوگیا ہے۔ یہ ہار گئے ہیں سب کچھ ‘ اپنے نفسوں کو بھی ہار گئے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی جان ہی ہار جائے تو پھر وہ کس چیز کا مالک رہ جاتا ہے۔ اس کی ملکیت میں کیا چیز رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے نفس کو ہار گیا۔ اس کی ذات چلی گئی ہے۔ گویا اس کا وجود ہی باقی نہیں رہا۔

اب حکایتی انداز کلام اچانک بدل جاتا ہے اور خطاب شروع ہوجاتا ہے۔ ان کی سرزنش کی جاتی ہے۔ جسمانی عذاب اس قدر درد ناک نہیں جس قدر یہ سرزنش اذیت ناک ہے۔ اب گویا ہم پھر ایک منظر میں دیکھ رہے ہیں کہ ان کی سرزنش کی جارہی ہے اور ان کو ملامت کی جارہی ہے۔