Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: An-Nahl 16:114

16:114
فكلوا مما رزقكم الله حلالا طيبا واشكروا نعمت الله ان كنتم اياه تعبدون ١١٤
فَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَـٰلًۭا طَيِّبًۭا وَٱشْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ١١٤
فَكُلُواْ
مِمَّا
رَزَقَكُمُ
ٱللَّهُ
حَلَٰلٗا
طَيِّبٗا
وَٱشۡكُرُواْ
نِعۡمَتَ
ٱللَّهِ
إِن
كُنتُمۡ
إِيَّاهُ
تَعۡبُدُونَ
١١٤
Yalnız Allah'a kulluk ediyorsanız, Allah'ın size helal ve temiz olarak verdiği rızıklardan yiyin, O'nun nimetine şükredin.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
16:114 ile 16:115 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

اس آیت کا تعلق روز مرّہ کھانے والی چیزوں سے ہے۔ خدا نے جو قابلِ خوراک چیزیں پیدا کی ہیں، ان میں چند متعین چیزوں کو چھوڑ کر بقیہ سب انسان کے لیے حلال ہیں۔ تاہم قدیم مشرک انسان نے یہ کیا کہ خدا کی حلال کی ہوئی بہت سی غذاؤں کو بطور خود اپنے لیے حرام کرلیا۔ جدید ملحد انسان نے اس کے برعکس یہ کیا ہے کہ خدا کی حرام کی ہوئی بہت سی غذاؤں کو بطور خود اپنے لیے حلال ٹھہرا لیا۔ یہ دونوں چیزیں اس روح کی قاتل ہیں جس کو غذائی نعمتوں کے ذریعے انسان کے اندر پیدا کرنا مقصود ہے۔

غذا انسان کی تمام ضرورتوں میں سب سے زیادہ اہم ضرورت ہے جس کا ہر انسان کو صبح وشام تجربہ ہوتا ہے۔ خدا کو یہ مطلوب ہے کہ آدمی جب غذا کا استعمال کرے تو وہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھ کر کھائے اور اس پر خدا کا شکر ادا کرے۔ مگر انسان نے پورے معاملہ کو الٹ دیا۔

قدیم مشرکانہ دور میں اس نے ان غذاؤں کو دیوتاؤں کے ساتھ منسوب کیا اور اس طرح ان کو خدا کے بجائے دیوتاؤں کی یاد کا ذریعہ بنا دیا۔ جدید ملحدانہ زمانہ میں یہ ہوا ہے کہ انسان نے سارے معاملہ کو اپنی لذتِ نفس کے تابع کردیا۔ اس نے خدا کی حرام غذاؤں کو بھی اپنے لیے حلال ٹھہرالیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کی پیداکی ہوئی چیزیں اس کے لیے صرف اپنی لذت کا دسترخوان بن کر رہ گئیں۔

مجبوری کی حالت میں اگر کوئی شخص خداکے غذائی قانون کو بدلے تو وہ ندامت کے جذبے کے تحت ایسا کرے گا، نہ کہ سرکشی کے جذبہ کہ تحت۔ اس لیے اس سے نفسیاتِ انسانی میں کوئی خرابی پیدا ہونے کا اندیشہ نہیں۔