Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: An-Nahl 16:119

16:119
ثم ان ربك للذين عملوا السوء بجهالة ثم تابوا من بعد ذالك واصلحوا ان ربك من بعدها لغفور رحيم ١١٩
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَـٰلَةٍۢ ثُمَّ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌ ١١٩
ثُمَّ
إِنَّ
رَبَّكَ
لِلَّذِينَ
عَمِلُواْ
ٱلسُّوٓءَ
بِجَهَٰلَةٖ
ثُمَّ
تَابُواْ
مِنۢ
بَعۡدِ
ذَٰلِكَ
وَأَصۡلَحُوٓاْ
إِنَّ
رَبَّكَ
مِنۢ
بَعۡدِهَا
لَغَفُورٞ
رَّحِيمٌ
١١٩
Sonra doğrusu Rabbin, bilmeyerek kötülük işleyip ardından tevbe eden ve ıslah olanlardan yanadır. Rabbin bundan sonra da bağışlar ve merhamet eder.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
16:118 ile 16:119 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

بنی اسرائیل پر یہ چیزین اس لئے حرام کی گئی تھیں کہ وہ مسلسل نافرمانی اور حدود سے تجاوز کرتے تھے اور یہ ان کی جانب سے خود پنے آپ پر ظلم تھا۔ اب اگر کسی نے برے کام پر اصرار نہ کیا اور جہالت سے سچے دل سے تائب ہوگیا تو اللہ غفور الرحیم ہے۔ اس کی رحمت کا دروازہ کھلا ہے۔ یہ آیت عام ہے یہودیوں کے لئے بھی تھی اور ان کے بعد آج مسلمانوں کے لئے بھی ہے۔ نیز آج یہودی اور غیر یہودی کافر اگر تائب ہوجائیں تو ان کے بھی تمام گناہ بخشے جائیں گے۔

اس مناسبت سے کہ بعض چیزیں یہودیوں پر کیوں حرام کی گئیں اور یہ کہ اہل مکہ کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور جن چیزوں کو انہوں نے اپنے الہوں کے نام پر حرام قرار دیا ہے وہ احکام ان کو دین ابراہیم سے ملے ہیں۔ یہاں روئے سخن ابراہیم (علیہ السلام) اور دین ابراہیم کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ کیا تھے اور آپ کا دین کیا تھا اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ حقیقی دین ابراہیم پر ہیں اور یہ کہ یہودیوں پر جو مخصوص چیزیں ان کے جرائم کی وجہ سے حرام ہوئیں وہ دین ابراہیم میں حرام نہ تھیں۔