Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: An-Nahl 16:14

16:14
وهو الذي سخر البحر لتاكلوا منه لحما طريا وتستخرجوا منه حلية تلبسونها وترى الفلك مواخر فيه ولتبتغوا من فضله ولعلكم تشكرون ١٤
وَهُوَ ٱلَّذِى سَخَّرَ ٱلْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا۟ مِنْهُ لَحْمًۭا طَرِيًّۭا وَتَسْتَخْرِجُوا۟ مِنْهُ حِلْيَةًۭ تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى ٱلْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ١٤
وَهُوَ
ٱلَّذِي
سَخَّرَ
ٱلۡبَحۡرَ
لِتَأۡكُلُواْ
مِنۡهُ
لَحۡمٗا
طَرِيّٗا
وَتَسۡتَخۡرِجُواْ
مِنۡهُ
حِلۡيَةٗ
تَلۡبَسُونَهَاۖ
وَتَرَى
ٱلۡفُلۡكَ
مَوَاخِرَ
فِيهِ
وَلِتَبۡتَغُواْ
مِن
فَضۡلِهِۦ
وَلَعَلَّكُمۡ
تَشۡكُرُونَ
١٤
Taze et yemeniz, takındığınız süsleri edinmeniz ve Allah'ın bol nimetinden faydalanmanız için denize -ki gemilerin onu yara yara gittiğini görürsün- boyun eğdiren de O'dur. Artık belki şükredersiniz.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

آیت نمبر 14

سمندروں کی متنوع حیات بھی انسانی زندگی کے لئے مفید و ممد ہے۔ سمندروں میں انسانی زندگی کی دلچسپیوں کے دوسرے سامان بھی موجود ہیں۔ مچھلیوں اور دوسرے حیوانات بحری انسان کے لئے بہترین غذا ہیں۔ نیز سمندر کے موتی ، مونگے اور سیپ انسان کے لئے بطور زیور آج کے دور جدید میں بھی کام دیتے ہیں۔ یہاں کشتی کا فائدہ صرف سفر ہی نہیں بتایا گیا بلکہ سمندروں میں کشتیوں کے چلنے کے منظر کے حسن کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔

وتری الفلک مواخر فیہ (16 : 14) ” تم دیکھتے ہو کہ کشتی سمندر کا سینہ چیرتے ہوئے چلتی ہے “۔ لفظ تری سے کشتی ، پانی اور کشتی کی روانی کے خوبصورت منظر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سمندری جہاز پانی کو چیرتے ہوئے جا رہے ہوتے ہیں۔ اس فقرے سے ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام اس جہان کے جمالیاتی پہلو کو نظر انداز نہیں کرتا۔ کائنات کی ہر چیز کو افادۂ حیات کے علاوہ انسان کے لئے حسین بھی بنایا گیا ہے۔

پھر قرآن مجید اس منظر سے انسان کو سبق سکھاتا ہے کہ یہ تمہارے لیے مفید بھی ہے ، تمہارے سفر و تجارت کا ذریعہ بھی ، اور یہ منظر تمہاری آنکھوں کے لئے خوبصورت بھی ہے لیکن ان تمام چیزوں کا تقاضا یہ بھی ہے کہ تم اللہ کا شکر بجالاؤ۔

ولتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون (16 : 14) ” یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو “۔