Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: An-Nisa 4:161

4:161
واخذهم الربا وقد نهوا عنه واكلهم اموال الناس بالباطل واعتدنا للكافرين منهم عذابا اليما ١٦١
وَأَخْذِهِمُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَقَدْ نُهُوا۟ عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلْبَـٰطِلِ ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَـٰفِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا ١٦١
وَأَخۡذِهِمُ
ٱلرِّبَوٰاْ
وَقَدۡ
نُهُواْ
عَنۡهُ
وَأَكۡلِهِمۡ
أَمۡوَٰلَ
ٱلنَّاسِ
بِٱلۡبَٰطِلِۚ
وَأَعۡتَدۡنَا
لِلۡكَٰفِرِينَ
مِنۡهُمۡ
عَذَابًا
أَلِيمٗا
١٦١
Yahudilerin haksızlıklarından, çoklarını Allah yolundan menetmelerinden, yasak edilmişken faiz almaları ve insanların mallarını haksızlıkla yemelerinden ötürü kendilerine helal kılınan temiz şeyleri onlara haram kıldık. Onlardan inkar edenlere, elem verici azab hazırladık.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
4:159 ile 4:162 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

عکرمہ کہتے ہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے (لَا يَمُوتُ النَّصْرَانِيُّ وَلَا الْيَهُودِيُّ حَتَّى يُؤْمِنَ بِمُحَمَّدٍصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) تفسير ابن كثير، جلد 2،ص 454 ۔ یہود ونصاري كے پاس آسمانی علم تھا۔ ایسے لوگ یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کرسکتے تھے کہ پیغمبر عربی کی دعوت خالص خدائی دعوت ہے۔ مگر پیغمبر عربی کو ماننا اور ان کے مشن میں اپنا مال اور اپنی زندگی لگانا ان کو دنیوی مصلحتوں کے خلاف نظر آتا تھا۔ اس بنا پر انھوں نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ مگر جب موت آدمی کے سامنے آتی ہے تو اس قسم کی تمام مصلحتیں باطل ہوتی ہوئی نظر آنے لگتی ہیں۔ اس وقت آدمی کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں اور حق اپنی کھلی صورت میں سامنے آجاتا ہے۔ موت کے دروازے پر پہنچ کر آدمی اس چیز کا اقرار کرلیتاہے جس کو وہ موت سے پہلے ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔ مگر اس وقت کے اقرار کی اللہ کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔

جب کوئی گروہ خدائی دین کے بجائے خود ساختہ دین کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی دینی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے کچھ خود ساختہ نشانات بھی قائم کرتا ہے۔ وہ اپنے مزاج اور اپنے حالات کے لحاظ سے حرام وحلال کے نئے قاعدے بناتا ہے اور ان کا خصوصی اہتمام کرکے ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ دین پر قائم ہے۔ ایسے لوگوں کا دین بعض ظاہری چیزوں کے اہتمام پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ اللہ والا بننے پر۔ چنانچہ وہ اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے منع كيے ہوئے طریقوں سے دنیوی فائدے حاصل کریں اور اللہ کے لیے ہونے والے کام کا راستہ روکیں۔ ایسے لوگوں کا انجام اللہ کے یہاں بے دینوں کے ساتھ ہوگا، نہ کہ دین داروں کے ساتھ۔

یہودیوں میں چند لوگ، عبد اللہ بن سلّام وغیرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کا ساتھ دیا۔ جو لوگ انسانی اضافوں سے گزر کر اصلی آسمانی دین سے آشنا ہوتے ہیں، جو عصبیت اور تقلید اور مفاد پرستی کی ذہنیت سے آزاد ہوتے ہیں ان کو سچائی کو سمجھنے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ وہ ہر قسم کے ذہنی خول سے باہر آکر سچائی کو دیکھ لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی جنتوں میں داخل كيے جائیں گے۔