Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: An-Nur 24:56

24:56
واقيموا الصلاة واتوا الزكاة واطيعوا الرسول لعلكم ترحمون ٥٦
وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ٥٦
وَأَقِيمُواْ
ٱلصَّلَوٰةَ
وَءَاتُواْ
ٱلزَّكَوٰةَ
وَأَطِيعُواْ
ٱلرَّسُولَ
لَعَلَّكُمۡ
تُرۡحَمُونَ
٥٦
Namaz kılın, zekat verin, Peygambere itaat edin ki size merhamet edilsin.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
24:56 ile 24:57 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

خدا کی رحمت یہ ہے کہ دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت عطا کی جائے۔ جو لوگ خدا کی اس رحمت کا مستحق بننا چاہیں انھیں اپنے اندر تین صفتیں پیدا کرنی چاہئیں۔

ایک اقامت صلوٰۃ۔ اقامت صلوٰۃ صورتاً پنچ وقتہ نماز کا نظام قائم کرنے کا نام ہے۔ اور معنوي طور پر اس کا مطلب یہ هے کہ لوگ خشوع اورتواضع میں جینے والے بنیں، نہ کہ کبر اور سرکشی میں جینے والے۔

اسی طرح زکوٰۃ کی عملی صورت یہ ہے کہ اپنے اموال میں مقررہ شرح کے مطابق سالانہ ایک رقم نکالی جائے اور اس کو بیت المال کے حوالے کیا جائےاور بيت المال نه هونے كي صورت ميں مستحقين كو براهِ راست دے ديا جائے۔ اور زکوٰۃ اپنی معنوی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ لوگ خود غرض بن کر نہ رہیں بلکہ وہ دوسروں کے خیر خواہ بن کررہیں۔ حتی کہ ان کی خیر خواہی اتنی بڑھے کہ اپنی ذات اور اثاثہ میں وہ دوسروں کا حق سمجھنے لگیں۔

رسو ل کی اطاعت رسول کے زمانے میں ذاتِ رسول کی اطاعت تھی۔ اور بعد کے زمانہ میں سنتِ رسول کی اطاعت۔ اس کامطلب یہ ہے کہ لوگوں کے ليے زندگی کا نمونہ اللہ کا رسول ہو۔ لوگ اپنی زندگی کے تمام معاملات میںصرف رسولِ خدا کو اپنا رہنما سمجھیں۔ رسول کی رائے سامنے آنے کے بعد لوگ اپنی ذاتی رائے سے دست بردار ہوجائیں۔ رسول آگے ہو اور تمام لوگ اس کے پیچھے۔