Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Ash-Shu'ara 26:10

26:10
واذ نادى ربك موسى ان ايت القوم الظالمين ١٠
وَإِذْ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱئْتِ ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ ١٠
وَإِذۡ
نَادَىٰ
رَبُّكَ
مُوسَىٰٓ
أَنِ
ٱئۡتِ
ٱلۡقَوۡمَ
ٱلظَّٰلِمِينَ
١٠
Rabbin Musa'ya: "Haksızlık eden millete, Firavun'un milletine git" diye nida etmişti. "Haksızlıktan sakınmazlar mı?"
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
26:10 ile 26:14 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

حضرت موسیٰ کو مصر کے فرعون پر دین توحید کی تبلیغ کرنی تھی جو اپنے زمانہ میںدنیا کی سب سے بڑی اور سب سے متمدن سلطنت کا بادشاہ تھا۔ دوسری طرف حضرت موسیٰ کا معاملہ یہ تھا کہ وہ بنی اسرائیل کے فرزند تھے جن کی حیثیت اس وقت کے مصر میں غلاموں اور مزدوروں جیسی تھی۔ قوم فرعون کا ایک شخص حضرت موسیٰ کے ہاتھ سے بلاارادہ ہلاک ہوگیا تھا۔ مزید یہ کہ حضرت موسیٰ اپنے اندر قوت بیان کی کمی محسوس فرماتے تھے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے ليے حضرت موسیٰ کا انتخاب فرمایا۔

حقیقت یہ ہے کہ خداظاہر سے زیادہ آدمی کے باطن کو دیکھتاہے۔ اور اگر کسی کے اندر باطنی جوہر موجود ہو تو اسی باطنی جوہر کی بنیاد پر اس کو اپنے دین کے لیے منتخب فرما لیتاہے۔ باطنی جو ہر آدمی کو خود پیش کرنا پڑتاہے۔ اس کے بعد اگر باعتبار ظاہر کچھ کمی ہو تو وہ خدا کی طرف سے پوری کردی جاتی ہے۔