Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Ash-Shu'ara 26:128

26:128
اتبنون بكل ريع اية تعبثون ١٢٨
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةًۭ تَعْبَثُونَ ١٢٨
أَتَبۡنُونَ
بِكُلِّ
رِيعٍ
ءَايَةٗ
تَعۡبَثُونَ
١٢٨
Kardeşleri Hud, onlara: "Allah'a karşı gelmekten sakınmaz mısınız? Doğrusu ben size gönderilmiş güvenilir bir elçiyim; Allah'tan sakının ve bana itaat edin. Buna karşı sizden bir ücret istemiyorum; benim ecrim ancak Alemlerin Rabbine aittir. Siz her yüksek yere koca bir bina kurup, boş şeyle mi uğraşırsınız? Temelli kalacağınızı umarak sağlam yapılar mı edinirsiniz? Yakaladığınızı zorbaca mı yakalarsınız? Artık Allah'tan sakının ve bana itaat edin. Bildiğiniz şeyleri size verenden sakının; davarları, oğulları, bahçeleri ve akarsuları size O vermiştir. Doğrusu hakkınızda büyük günün azabından korkuyorum" dedi.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
26:123 ile 26:135 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

عاد وہ قوم ہے جس کو قوم نوح کی تباہی کے بعد دنیا میں عروج ملا (الاعراف، 7:69 )۔ اس قوم کو اللہ تعالیٰ نے صحت، فارغ البالی اور اقتدار ہر چیز عطا فرمائی۔ ان چیزوں پر اگر وہ شکر کرتے تو ان کے اندر تواضع کا جذبہ ابھرتا۔ مگر انھوں نے اس پر فخر کیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے ليے اپنے وسائل کا سب سے زیادہ پسندیدہ مصرف یہ بن گیا کہ وہ اپنے معیارِ زندگی کو بڑھائیں۔ وہ اپنے نام کو اونچا کریں۔ وہ اپنی عظمت کے سنگی نشانات قائم کرنے کو سب سے بڑا کام سمجھنے لگیں۔

ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتاہے کہ جب انھیں کسی سے اختلاف یا شکایت ہوجائے تو ان کی متکبرانہ نفسیات انھیں کسی حد پر رکنے نہیں دیتی۔ وہ اس کے خلاف ہر بے انصافی کو اپنے ليے جائز کرلیتے ہیں۔ وہ اس کو اپنی پوری طاقت سے پیس ڈالنا چاہتے ہیں۔ دنیا کی درستگی انھیں آخرت کی پکڑ سے بے خوف کردیتی ہے اور جو شخص اپنے آپ کو آخرت کی پکڑ سے محفوظ سمجھ لے، دوسرے لوگ اس کی پکڑ سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔

جن لوگوں کو خوش حالی اور برتری حاصل ہوجائے ان کے اندر اپنے بارے میں جھوٹا اعتماد پیداہوجاتا ہے۔ یہ جھوٹا اعتماد ان کے ليے اپنے سے باہر کی صداقت کو سمجھنے میں مانع بن جاتا ہے۔ وہ ناصح کی بات کو اہمیت نہیں دیتے، خواہ وہ کتنا ہی قابل اعتبار کیوں نہ ہو، خواہ وہ خدا کا رسول ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے لوگ اسی وقت مانتے ہیں جب کہ خدا کا عذاب انھیں ماننے پر مجبور کردے۔