Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Ash-Shu'ara 26:203

26:203
فيقولوا هل نحن منظرون ٢٠٣
فَيَقُولُوا۟ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ ٢٠٣
فَيَقُولُواْ
هَلۡ
نَحۡنُ
مُنظَرُونَ
٢٠٣
O zaman "Erteye bırakılmaz mıyız?" derler.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
26:198 ile 26:203 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

قرآن عربی زبان میں آیا اور جس پیغمبر نے اسے پیش کیا اس کی بھی مادری زبان عربی تھی۔ اس بنا پر منکرین کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ یہ تو خود ان کا اپنا کلام ہے۔ وہ ایک عرب ہیں اس ليے انھوں نے عربی میں ایک قرآن تصنیف کرلیا۔

مگر اعتراض کا یہ انداز خود بتا رہاہے کہ یہ کوئی سنجیدہ اعتراض نہیں ہے۔ اور جو لوگ کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی شوشہ نکال لیتے ہیں۔ مثلاً اگر ایسا کیا جاتا کہ کسی غیر عربی پر یہ عربی قرآن اتار دیا جاتا اور وہ شخص عربی زبان سے ناواقف ہونے کے باوجود عربی قرآن انھیں پڑھ کر سناتا تو وہ فوراًیہ کہہ دیتے کہ ’’کوئی عرب اس کو سکھا جاتاہے‘‘۔

جو لوگ ناحق کی بنیاد پر اپنی زندگی کی عمارت کھڑی کئے ہوئے ہوں ان کے ليے حق کا اعتراف کرنا خود اپنی نفی کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے سامنے جب حق آئے اور وہ ذاتی مصالح کو اہمیت دیتے ہوئے حق کا اعتراف نہ کریں تو انکار کا مزاج ان کی نفسیات میں اس طرح شامل ہوجاتا ہے کہ انھیں دوبارہ اس سے نکلنا نصیب نہیں ہوتا۔