Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Ash-Shu'ara 26:218

26:218
الذي يراك حين تقوم ٢١٨
ٱلَّذِى يَرَىٰكَ حِينَ تَقُومُ ٢١٨
ٱلَّذِي
يَرَىٰكَ
حِينَ
تَقُومُ
٢١٨
Senin kalkıp namaz kılanlar arasında bulunduğunu gören, güçlü ve merhametli olan Allah'a güven. Doğrusu O işitir ve bilir.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
26:217 ile 26:220 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

و توکل ……العلیم (62 : 22) ” ان کو ان کی نافرمانیوں کے اندر چھوڑ دیں اور ان کے اعمال سے اپنی برات کا اظہار کردیں اور اپنے رب پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوں اور ہر معاملے میں رب مکریم سے استعانت طلب فرمائیں۔ یہاں اللہ کی دو صفات بیان کی گئی ہیں جو اس سورت میں بار بار آتی ہیں یعنی صفت عزت اور صفت رحمت اس کے بعد قلب رسول اللہ ﷺ کو انس اور محبت کا شعور دیا جاتا ہے کہ تمہارا رب تمہیں اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم اکیلے نماز میں ہوتے ہو اور اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم نمازیوں کے اندر ہوتے ہو۔ یعنی وحدت کی حالت میں بھی تمہیں دیکھ رہا ہے اور اجتماعی حالت میں بھی اس کی نظر تم پر ہے۔ یعنی جب تم ساجدین یعنی اہل ایمان کے اندر ہوتے ہو ، ان کی تربیت کرتے ہو ، ان کی امامت کرتے اور انہیں خطبہ دیتے ہو ، اللہ آپ کی حرکات و سکناء کی نگرانی کر رہا ہے اور آپ کے دعوتی کام اور درپیش خطرات کو بھی دیکھ رہا ہے وہ سمیع و علم ہے۔

اس انداز تعبیر میں نبی ﷺ کے اندر یہ شعور پیدا کرنا مطلوب ہے کہ اللہ آپ کے قریب ہے ، دیکھ رہا ہے اور عنایات کر رہا ہے۔ یوں رسول اللہ یہ یقین رکھتے تھے کہ آپ اللہ کی حفاظت میں ہیں۔ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں۔ چناچہ اس خوشگوار ماحول محبوت میں آپ زندگی بسر کرتے تھے۔

اس سورت کا یہ آخری سبق زیادہ تر قرآن کے بارے میں ہے۔ اس کے بارے میں ایک تاکید تو یہ کی گئی کہ یہ رب العالمین کی طر سے ہے۔ دوسری یہ کہ روح للامین اسے لے کر آئے تیسری یہ کہ اس کے نزول میں شیاطین کا کوئی دخل نہیں ہو سکتا اور یہاں پھر تاکید کی جاتی ہی کہ شیاطین حضرت محمد ﷺ پر کیسے اتر سکتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ تو سچے ، امین اور ایک پاک و صاف زندگی بسر کرنے والے ہیں۔ شیاطین تو جھوٹوں ، کذابوں ، بدکرداروں اور دھوکہ باز کاہنوں پر اترتے ہیں اور یہ تو کاہن اور گمراہ مذہبی پیشوا ہیں جو شیطانی باتیں لے کر اور ان میں رنگ بھر کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔