Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Ash-Shu'ara 26:44

26:44
فالقوا حبالهم وعصيهم وقالوا بعزة فرعون انا لنحن الغالبون ٤٤
فَأَلْقَوْا۟ حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا۟ بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ ٱلْغَـٰلِبُونَ ٤٤
فَأَلۡقَوۡاْ
حِبَالَهُمۡ
وَعِصِيَّهُمۡ
وَقَالُواْ
بِعِزَّةِ
فِرۡعَوۡنَ
إِنَّا
لَنَحۡنُ
ٱلۡغَٰلِبُونَ
٤٤
Onlar da iplerini ve değneklerini attılar ve: "Firavun hakkı için, şüphesiz, biz üstün geleceğiz" dediler.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
26:43 ile 26:48 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں ڈالیں تو دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہوا گویا کہ وہ سانپ بن کر میدان میں دوڑ رہی ہیں۔ مگر یہ کوئی حقیقی تغیر نہ تھا، یہ صرف نظر بندی کا معاملہ تھا۔ اس کے برعکس، حضرت موسیٰ کے عصا کا سانپ بننا عصا کا معجزۂ خداوندی میں ڈھل جانا تھا۔ چنانچہ جب حضرت موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں چلا تو اچانک اس نے جادوگروں کے سارے طلسم کو باطل کردیا۔ اس کے بعد جادوگروں کی رسّیاں اور لاٹھیاں صرف رسّیاں اور لاٹھیاں ہو کر رہ گئیں جیسا کہ وہ حقیقۃً تھیں۔

جادوگروں نے پہلے حضرت موسیٰ کو اپنی طرح کا ایک جادو گرسمجھا تھا۔ مگر تجربہ نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔ وہ جادو کے فن کو بخوبی جانتے تھے اس ليے وہ فوراً سمجھ گئے کہ یہ جادوگری نہیں ہے بلکہ پیغمبری ہے۔ تاہم ان کے ليے ممکن تھاکہ اب بھی وہ اعتراف نہ کریں اور حضرت موسیٰ کو رد کرنے کے ليے فرعون کی طرح کچھ جھوٹے الفاظ بول دیں۔ مگر ایک زندہ انسان کے ليے یہ ناممکن ہوتاہے کہ حق کے پوری طرح کھل جانے کے بعد وہ حق کا اعتراف نہ کرے۔ جادوگر اسی قسم کے زندہ انسان تھے۔ چنانچہ انھوں نے فوراً حضرت موسیٰ کی صداقت کا اعتراف کرلیا۔