Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Ash-Shu'ara 26:69

26:69
واتل عليهم نبا ابراهيم ٦٩
وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَٰهِيمَ ٦٩
وَٱتۡلُ
عَلَيۡهِمۡ
نَبَأَ
إِبۡرَٰهِيمَ
٦٩
Onlara İbrahim'in kıssasını anlat.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
26:69 ile 26:74 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

ایک طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم تھی کہ اس نے باپ دادا کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا وہی خود بھی کرنے لگی۔ دوسری طرف حضرت ابراہیم تھے جنھوںنے خود اپنی عقل سے سوچا۔ انھوںنے ماحول سے اوپر اٹھ کر سچائی کو معلوم کرنے کی کوشش کی۔ یہی وہ صفت خاص ہے جو آدمی کو خدا کی معرفت تک پہنچاتی ہے اور اسی صفت میں جو کمال درجہ پر ہو اس کو خدا اپنے دین کی پیغام بری کے ليے منتخب فرماتا ہے۔

’’ہم اپنے بتوں پر جمے رہیںگے‘‘ کے الفاظ بتاتے هيںکہ حضرت ابراہیم سے گفتگو میں انھوںنے اپنے آپ کو بے دلیل پایا۔ اس کے باوجود وہ ماننے کے ليے تیار نہ ہوئے۔ دلیل کی سطح پر شکست کھانے کے باوجود وہ تعصب کی سطح پر اپنے آبائی دین پر قائم رہے۔