Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Ash-Shu'ara 26:76

26:76
انتم واباوكم الاقدمون ٧٦
أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمُ ٱلْأَقْدَمُونَ ٧٦
أَنتُمۡ
وَءَابَآؤُكُمُ
ٱلۡأَقۡدَمُونَ
٧٦
İbrahim: "Eski atalarınızın ve sizin nelere taptıklarınızı görüyor musunuz? Doğrusu onlar benim düşmanımdır. Dostum ancak Alemlerin Rabbidir. Beni yaratan da, doğru yola eriştiren de O'dur. Beni yediren de, içiren de O'dur. Hasta olduğumda bana O şifa verir. Beni öldürecek, sonra da diriltecek O'dur. Ahiret gününde yanılmalarımı bana bağışlamasını umduğum O'dur. Rabbim! Bana hikmet ver ve beni iyiler arasına kat.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
26:75 ile 26:77 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

قال افرئیتم ……الاقدمون (76)

فانھم ……العلمین (77)

یوں انہوں نے اعلان کیا کہ میرا باپ اور میری قوم بھی ان کی پرستش کرتی ہے مگر ان میں ان عقائد کو نہ صرف ترک کرنے کا اعلان کرتا ہوں بلکہ ان کا دشمن ہوں۔ ان الموں کا دشمن ہوں ، آباء پرستی کا دشمن ہوں اور پانی پرانی تاریخ اور قدیم سے قدمی ترین اجداد کا دشمن ہوں۔

یوں قرآن مجید اہل ایمان کو تعلیم دیتا ہے کہ سچائی کے مقابلے میں اگر باپ آجائے ، قوم آجائے ، آبائو اجداد کی روایات آجائیں سب کو ٹھکرانا لازمی ہے کیونکہ اسلام کے بعد تمام انسانی رباطوں کو کاٹ کر صرف اسلامی رابطہ اور تعلق اپنا نا فرض ہے۔ سالام میں ایمان اور نظریہ کو اولیت حصال ہے اور باقی سب چیزیں اس کے تابع ہیں۔

ابراہیم (علیہ السلام) آباء و اجداد کی روایات کا انکار کرتے ہوئے صرف رب العالمین کی روایات کو مستثنیٰ کرتے ہیں۔

فانھم عدو لی الا رب العلمین (26 : 88) ” میرے تو یہ سب دشمن ہیں بجز رب العالمین کے۔ “ کیونکہ ان کے آبائے اقدا مین میں ضرور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو صرف اللہ کی عبادت کرتے ہوں گے۔ تاریخ کے اس دور میں جب ان کے عقائد فساد کا شکار نہ ہوئے تھے اور ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے رب العالمین کے ساتھ دوسروں کی بندگی بھی کی ہو۔ اس لئے آپ نے غایت درجہ احتیاط کرتے ہوئے یہاں رب العالمین کو مستثنیٰ کردیا اور یہ بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے سناجیدہ شخص کے لائق تھی کیونکہ آپ یہاں ایمان اور نظریہ پر مکاملہ کر رہے تھے اور ظاہر ہے کہ ایمان اور عقیدے اور نظریہ کی بات بڑی نازک ہوتی ہے۔

اس کے بعد حضرت ابراہیم عل یہ اسلام رب العالمین کی صفات بیان کر کے تعارف کرتاے ہیں جس کے ساتھ آپ کا رابطہ ہر حال اور ہر وقت موجود ہوتا ہے۔ وہ ہمارے قریب ہے۔ انسان کی ہر حرکت اور ہر سکون میں وہ انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ انسان کی تمام حاجات اور ضروریات وہ فراہم کرتا ہے۔