Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Ash-Shu'ara 26:88

26:88
يوم لا ينفع مال ولا بنون ٨٨
يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌۭ وَلَا بَنُونَ ٨٨
يَوۡمَ
لَا
يَنفَعُ
مَالٞ
وَلَا
بَنُونَ
٨٨
Sonrakilerin beni güzel şekilde anmalarını sağla. Beni nimet cennetine varis olanlardan kıl. Babamı da bağışla, o şüphesiz sapıklardandır. İnsanların diriltileceği gün, Allah'a temiz bir kalble gelenden başka kimseye malın ve oğulların fayda vermeyeceği gün, beni rezil etme" demişti.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
26:87 ile 26:89 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

اس آیت میں ’’حکم‘‘ سے مراد فہم صحیح ہے۔ یعنی چیزوں کو ویسا ہی دیکھنا جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ نبوت کے بعد کسی بندۂ خداکے ليے یہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ اسی ليے حدیث میں آیا ہے کہ مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 71 )يعني، اللہ جس شخص کے ليے خیر کا ارادہ کرتاہے اس کو دین کی سمجھ دے دیتاہے)۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعا میں جو باتیں کہیں وہ سب قبول ہوگئیں۔ مگر اپنے باپ (آزر) کی مغفرت کی دعا قبول نہیں ہوئی۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ دعا تمام تر خدا اور بندے کے درمیان کا معاملہ ہے۔ کسی شخص کی دعا کسی دوسرے شخص کو مغفرت نہیں دلاسکتی۔

اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قیمت ’’قلب سلیم‘‘ کی ہے۔ قلب سلیم سے مراد قلب صحیح یا پاک دل ہے یعنی وہ دل جو شرک اور نفاق اور حسد اور بغض کے جذبات سے پاک ہو۔ بالفاظ دیگر خدا نے پیدائشی طورپر جو دل آدمی کو دیا تھا وہی دل لے کر وہ خدا کے یہاں پہنچے۔ کوئی دوسرا دل لے کر وہ خدا کے یہاں حاضر نہ ہو۔