Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: At-Takwir 81:15

81:15
فلا اقسم بالخنس ١٥
فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلْخُنَّسِ ١٥
فَلَآ
أُقۡسِمُ
بِٱلۡخُنَّسِ
١٥
Gündüz sinip geceleri gözüken gezegenlere and olsun;
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
81:15 ile 81:16 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

الخنس ۔ الجوار ۔ الکنس تینوں سے مراد ستارے ہیں۔ الخنس وہ ستارے جو اپنے دورہ فلکی میں پلٹتے ہیں ، الجوار جو چلتے ہیں اور الکنس ، جو چھپتے ہیں۔ انداز بیان کے استعارات ان ستاروں کو ہر نوں کی طرح زندگی کی خصوصیات بخش دیتے ہیں ، جو پلٹتی ہیں ، دوڑتی ہیں اور اپنے غار میں گھس جاتی ہیں۔ ایک طرف سے دوسری طرف لوٹ جاتی ہیں ، یہ ستارے گویا زندہ ہر توں کی طرح دوڑتے گھومتے اور زندہ نظر آتے ہیں۔ انداز تعبیر ان ستاروں کی حرکت کو ایک حسن رفتار عطا کردیتا ہے۔ اور ان کے ظہور میں بھی جمال نظر آتا ہے۔ اور فضا میں بھی اس کا جمال ہے ۔ چھپنا بھی خوبصورت اور نمودار ہونا بھی خوبصورت۔ دوڑنا بھی اچھا اور مڑنا بھی اچھا۔ پھر الفاظ بھی خوبصورت اور ان کا تلفظ بھی پر نغمہ اور پر ترنم اور خوبصورت۔ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔