Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: At-Tawbah 9:101

9:101
وممن حولكم من الاعراب منافقون ومن اهل المدينة مردوا على النفاق لا تعلمهم نحن نعلمهم سنعذبهم مرتين ثم يردون الى عذاب عظيم ١٠١
وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ ٱلْأَعْرَابِ مُنَـٰفِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ ٱلْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا۟ عَلَى ٱلنِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍۢ ١٠١
وَمِمَّنۡ
حَوۡلَكُم
مِّنَ
ٱلۡأَعۡرَابِ
مُنَٰفِقُونَۖ
وَمِنۡ
أَهۡلِ
ٱلۡمَدِينَةِ
مَرَدُواْ
عَلَى
ٱلنِّفَاقِ
لَا
تَعۡلَمُهُمۡۖ
نَحۡنُ
نَعۡلَمُهُمۡۚ
سَنُعَذِّبُهُم
مَّرَّتَيۡنِ
ثُمَّ
يُرَدُّونَ
إِلَىٰ
عَذَابٍ
عَظِيمٖ
١٠١
Çevrenizdeki Bedeviler içinde ikiyüzlüler ve Medine'liler içinde de ikiyüzlülükte direnenler vardır. Onları siz değil, ancak Biz biliriz. Kendilerine iki defa azabedeceğiz; onlar sonra da büyük bir azaba uğratılırlar.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

اس سے قبل منافقین کے بارے میں عمومی بات ہوچکی ہے اور ان کے احوال کا انکشاف کردیا گیا ہے ان کا علق اہل مدینہ سے بھی تھا اور اہل مدینہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے بدوی منافقین سے بھی تھا۔ یہاں منفقین کی ایک خاص صنف کا تذکرہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہنر نفاق میں طاق ہوگئے ہی اور اس آرٹ میں انہوں نے بہت ہی اچھا تجربہ حاصل کرلیا ہے۔ یہ عمل نفاق میں ڈوب چکے ہیں اور وہ اس قدر فنکار بن گئے ہیں کہ خود رسول اللہ ﷺ اپنی پیغمبرانہ بصیرت کے باوجود ان کو نہیں پہچان سکے حالانکہ آپ نے اس دور تک ان کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کرلی تھیں اور تجربات کے ایک طویل دور سے گزر چکے تھے۔

اللہ فرماتے ہیں کہ اس قسم کے منافقین اہل مدینہ اور ارد گرد کی آبادی میں اب بھی موجود ہیں۔ اس قسم کے منافقین کی سازشون اور نیش زنیوں سے حضور اور اہل ایمان مطمئن ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایک طرف حضور کو فرماتے ہیں کہ آپ کے علم میں ان کی ریشہ دوانیاں نہیں ہیں ان کے ساتھ ساتھ ان کو بھی سخت تنبیہہ کردی جاتی ہے کہ وہ اس سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ ان کی مکاری اور ہوشیاری اور شاطرانہ چالیں اللہ کے مقابلے میں کارگر نہیں ، اللہ ان کو اس دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل و خوار کرے گا جبکہ آخرت میں ان کو دوگنا عذاب دیا جائے گا۔

لا تعلمھم نحن نعلمہم سنعذبھم مرتین ثم یردون الی عذاب عظیم " تم انہیں نہیں جانتے ، ہم ان کو جانتے ہیں۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے ، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے۔ دنیا میں ان کو دوگنا عذاب دیا جائے گا ؟ قریب الفہم مفہوم یہ ہے کہ ایک تو ان کو اس بات پر سخت قلق ہوگا کہ اسلامی سوسائٹی میں ان کی شاطرانہ چالوں کے باوجود ان کی حقیقت لوگوں پر واضح کردی گئی اور دوسرا عذاب یہ کہ ان کی موت اس حالت میں آئے گی کہ ان کو روح کو سختی سے قبض کیا جائے گا اور قبض روح کی حالت میں ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر ضربیں رسید کی جائیں گی یا یہ عذاب کہ وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ مسلمانوں کو فتح پر فتح نصیب ہو رہی ہے اور وہ دل ہی دل میں جلتے ہیں اور دوسرا عذاب یہ کہ یہ لوگ ہر وقت اس ڈر میں رہتے ہیں کہ ان کی حالت کا انکشاف مسلمانوں پر نہ ہوجائے اور یہ کہ وہ عمل جہاد کا نشانہ نہ بن جائیں۔

یہ تو تھے دو انتہائی معیار اور ان کے درمیان کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بین بین ہیں۔