Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: At-Tawbah 9:54

9:54
وما منعهم ان تقبل منهم نفقاتهم الا انهم كفروا بالله وبرسوله ولا ياتون الصلاة الا وهم كسالى ولا ينفقون الا وهم كارهون ٥٤
وَمَا مَنَعَهُمْ أَن تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَـٰتُهُمْ إِلَّآ أَنَّهُمْ كَفَرُوا۟ بِٱللَّهِ وَبِرَسُولِهِۦ وَلَا يَأْتُونَ ٱلصَّلَوٰةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَىٰ وَلَا يُنفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَـٰرِهُونَ ٥٤
وَمَا
مَنَعَهُمۡ
أَن
تُقۡبَلَ
مِنۡهُمۡ
نَفَقَٰتُهُمۡ
إِلَّآ
أَنَّهُمۡ
كَفَرُواْ
بِٱللَّهِ
وَبِرَسُولِهِۦ
وَلَا
يَأۡتُونَ
ٱلصَّلَوٰةَ
إِلَّا
وَهُمۡ
كُسَالَىٰ
وَلَا
يُنفِقُونَ
إِلَّا
وَهُمۡ
كَٰرِهُونَ
٥٤
Verdiklerinin kabul olunmasına engel olan, Allah'ı ve Peygamberini inkar etmeleri, namaza tembel tembel gelmeleri, istemeye istemeye vermeleridir.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
9:53 ile 9:54 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

پیچھے رہنے والوں میں سے اور انتظار کرنے والون میں سے بعض ایسے لوگ بھی تے جنہوں نے اپنا مالی تعاون پیش کردیا تھا لیکن ذاتی طور پر جہاد میں شرکت سے وہ معذوری کا اظہار کر رہے تے اور یہ رویہ وہ اس لیے اختیار کر رہے تھے کہ وہ بدنام بھی نہ ہوں اور بین بین رہیں نہ ادھرکے نہ ادھر کے۔ چنانہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان جیسے لوگوں کے مالی تعاون کو مسترد کردیں کیونکہ یہ لوگ مالی تعاون کی پیشکش خوف اور دکھاوے کے لیے کرتے ی۔ ایمان کے تقاضوں اور اللہ پر بھروسے کی وجہ سے وہ یہ انفاق نہٰں کر رہے۔ خواہ وہ یہ کام دکھاوے کے لیے کر رہے ہوں اور اہل ایمان کو دھوکہ دے رہے ہوں یا مشرکین کے ڈر کی وجہ سے کر رہے ہوں۔ دونوں صورتوں میں ان کا یہ فعل اللہ کے نزدیک مردود ہے اور اللہ کے ہاں اس کا کوئی اجر نہیں ہے۔

ہر دور میں منافقین کے یہی خدوخال ہوتے ہیں۔ وہ ہر وقت خوف اور پیچ و تاب میں ہوتے ہیں۔ ان کے دل خالی خالی اور ضمیر اور ان کی سوچ یکسوئی سے تہی دامن ہوتی ہے۔ ان کے مظاہر میں حقیقت کی روح نہیں ہوتی اور ان کا ظاہر ان کے باطن سے بالکل جدا ہوتا ہے۔

ذرا قرآن کے انداز تعبیر کو دیکھو و لا یاتون الصلوۃ الا وھم کسالی (نماز کے لیے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے) ۔ وہ نماز دکھاوے کے لیے پڑھتے ہیں وہ ظاہراً تو نماز ہوتی ہے لیکن ان کے اندر نماز کی روح نہیں ہوتی۔ وہ نماز کو درست کرکے استقامت کے ساتھ نہیں پڑھتے۔ کیونکہ نماز پڑھنے پر جو جذبہ مجبور کرتا ہے وہ ان کے دل اور اندرون میں نہیں ہوتا بلکہ بعض بیرونی اسباب کے دباؤ کی وجہ سے وہ اس طرف مجبور ہوتے ہیں۔ لہذا وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں یہ فعل مجبوراً کرن اپڑ رہا ہے۔ اس طرح وہ اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرتے وہ بھی محض ظار داری کے لیے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ مقبول نہیں ہیں کیونکہ اللہ کسی بھی عبادت کو قبول نہیں کرتا جو دلی جذبہ اور شعوری ایمان کے نتیجے میں نہ ہو۔ لہذا معیار یہ ہے کہ اچھا عمل ہو اور اچھی نیت سے کیا جائے۔