سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: النحل 16:60

16:60
للذين لا يومنون بالاخرة مثل السوء ولله المثل الاعلى وهو العزيز الحكيم ٦٠
لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ مَثَلُ ٱلسَّوْءِ ۖ وَلِلَّهِ ٱلْمَثَلُ ٱلْأَعْلَىٰ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ٦٠
لِلَّذِیْنَ
لَا
یُؤْمِنُوْنَ
بِالْاٰخِرَةِ
مَثَلُ
السَّوْءِ ۚ
وَلِلّٰهِ
الْمَثَلُ
الْاَعْلٰی ؕ
وَهُوَ
الْعَزِیْزُ
الْحَكِیْمُ
۟۠
ان لوگوں کے لیے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے بری مثال ہے اور اللہ کی صفت نہایت بلند ہے۔ اور وہ زبردست ہے کمال حکمت والا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 16:57 سے 16:60 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

ایک خداکے سوا انسان نے دوسرے جو معبود بنائے ہیں ان میں دیوتا بھی ہیں اور دیویاں بھی۔ یہاں دیویوں کے عقیدے کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے ایک عام مثال دی گئی ہے۔ مرد کے مقابلہ میں عورت چونکہ کمزور ہوتی ہے، اس کے علاوہ عام حالات میں وہ اثاثہ سے زیادہ ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے عام طورپر لوگ لڑکے کی پیدائش پر زیادہ خوش ہوتے ہیں۔اور لڑکی کی پیدائش پر کم۔ اب جب کہ لڑکے اور لڑکی میں یہ فرق ہے تو خدا اگر اپنے لیے اولاد پیدا کرتا تو وہ لڑکیاں کیوں پیدا کرتا۔

انسان کس لیے اولاد چاہتا ہے۔ اس لیے تاکہ وہ اس کے ذریعے سے اپنی کمی کو پورا کرسکے۔مگر خدا اس طرح کی کمیوں سے بلند ہے۔ خدا کی عظمت وقدرت جو اس کی کائنات میں ظاہر ہوئی ہے وہ بتاتی ہے کہ خدا اس سے بلند وبرتر ہے کہ اس کے اندر ایسی کوئی کمی ہو جس کی تلافی کے لیے وہ اپنے یہاں لڑکا اور لڑکی پیدا کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اگر کمیوں والا ہوتاتو وہ خدا ہی نہ ہوتا۔ خدا اسی لیے خدا ہے کہ وہ ہر قسم کی تمام کمیوں سے پاک ہے۔