سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأنبياء 21:90

21:90
فاستجبنا له ووهبنا له يحيى واصلحنا له زوجه انهم كانوا يسارعون في الخيرات ويدعوننا رغبا ورهبا وكانوا لنا خاشعين ٩٠
فَٱسْتَجَبْنَا لَهُۥ وَوَهَبْنَا لَهُۥ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُۥ زَوْجَهُۥٓ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ يُسَـٰرِعُونَ فِى ٱلْخَيْرَٰتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًۭا وَرَهَبًۭا ۖ وَكَانُوا۟ لَنَا خَـٰشِعِينَ ٩٠
فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗ ؗ
وَوَهَبْنَا
لَهٗ
یَحْیٰی
وَاَصْلَحْنَا
لَهٗ
زَوْجَهٗ ؕ
اِنَّهُمْ
كَانُوْا
یُسٰرِعُوْنَ
فِی
الْخَیْرٰتِ
وَیَدْعُوْنَنَا
رَغَبًا
وَّرَهَبًا ؕ
وَكَانُوْا
لَنَا
خٰشِعِیْنَ
۟
تو ہم نے اس کی دعا قبول فرمائی اور اسے یحییٰ ؑ (جیسا بیٹا) عطا فرمایا اور اس کی بیوی کو اس کے لیے صحت مند بنا دیا یقیناً یہ لوگ ہیں جو بھلائی کے کاموں میں بہت جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے رغبت اور خوف سے اور وہ سب ہمارے سامنے عاجزی اختیار کرنے والے تھے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

يَدْعُونَنَا رَ‌غَبًا وَرَ‌هَبًا (and call Us with hope and fear - 21:90). This may be interpreted to mean that they call Allah Ta` ala both in comfort and distress. The other explanation of the verse is that during their prayers they remain suspended between hope and fear hoping that Allah would forgive their sins and fearing that their lapses may bring on them His displeasure.