سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: القصص 28:36

28:36
فلما جاءهم موسى باياتنا بينات قالوا ما هاذا الا سحر مفترى وما سمعنا بهاذا في اباينا الاولين ٣٦
فَلَمَّا جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَا بَيِّنَـٰتٍۢ قَالُوا۟ مَا هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّفْتَرًۭى وَمَا سَمِعْنَا بِهَـٰذَا فِىٓ ءَابَآئِنَا ٱلْأَوَّلِينَ ٣٦
فَلَمَّا
جَآءَهُمْ
مُّوْسٰی
بِاٰیٰتِنَا
بَیِّنٰتٍ
قَالُوْا
مَا
هٰذَاۤ
اِلَّا
سِحْرٌ
مُّفْتَرًی
وَّمَا
سَمِعْنَا
بِهٰذَا
فِیْۤ
اٰبَآىِٕنَا
الْاَوَّلِیْنَ
۟
تو جب موسیٰ ؑ پہنچا ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لے کر انہوں نے کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں سوائے گھڑے ہوئے جادو کے اور ہم نے ایسی کوئی بات اپنے پہلے آباء و اَجداد میں نہیں سنی
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 28:34 سے 28:37 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

A sermon should have high degree of eloquence

هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا (He is more fluent in his tongue - 28:34). This verse points out that a high degree of oratory and eloquence is desirable for sermons and preaching, and there is no harm if one takes training in that.