سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
39:2
انا انزلنا اليك الكتاب بالحق فاعبد الله مخلصا له الدين ٢
إِنَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ بِٱلْحَقِّ فَٱعْبُدِ ٱللَّهَ مُخْلِصًۭا لَّهُ ٱلدِّينَ ٢
اِنَّاۤ
اَنۡزَلۡنَاۤ
اِلَيۡكَ
الۡكِتٰبَ
بِالۡحَقِّ
فَاعۡبُدِ
اللّٰهَ
مُخۡلِصًا
لَّهُ
الدِّيۡنَ ؕ‏
٢
(اے نبی ﷺ !) ہم نے آپ پر یہ کتاب اتاری ہے حق کے ساتھ پس بندگی کرو اللہ کی اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

انآ انزلنآ الیک الکتٰب بالحق (39: 2) ” اے نبی ﷺ یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق نازل کی ہے “۔ اور جس سچائی پر نازل کی گئی ہے۔ وہ ہمہ جہت وحدانیت ہے ، جس کے اوپر یہ کائنات قائم ہے۔ اس سورت کی پانچویں آیت میں ہے :

خلق السٰمٰوت والارض بالحق (39: 5) ” آسمانوں اور زمین کو اس نے برحق پیدا کیا ہے “۔ لہٰذا جس حق اور سچائی پر سماوات

کا قیام ہے ، وہی سچائی اس کتاب کا موضوع ہے۔ اس کتاب کا تصور توحید اور اس کائنات کی تخلیق کی وحدت ایک ہی ہیں۔ جس طرح یہ کائنات اللہ واحد کی تخلیق اور مصنوع ہے اور جس طرح یہ انسان اللہ کی تخلیق اور اس کے امر پر قائم ہے ، اسی طرح یہ کتاب بھی اللہ کے امر پر قائم ہے۔ لہٰذا منطقی نتیجہ یہ ہے :

فاعبداللہ مخلصاله الدین (39: 2) ” لہذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو ، دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے “۔

خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے جن کی طرف یہ کتاب برحق نازل کی گئی۔ اور یہ کتاب رسول کا پیش کردہ منہاج حیات ہے جس کی طرف آپ تمام انسانوں کو دعوت دیتے ہیں۔ جو اس عقیدے پر قائم ہے کہ اللہ ایک ہے ، اسی کی بندگی کرنی ہے ۔ نظام زندگی صرف اسی سے اخذ کرنا ہے اور پوری زندگی کو اس عقیدۂ توحید پر قائم کرنا ہے۔

اللہ کو ایک الٰہ سمجھنا اور دین اس کے لیے خالص کرنا محض چند کلمات کا نام نہیں ہے جو زبان سے ادا کردیئے جائیں۔ یہ دراصل زندگی کا پورا نظام ہے جو انسان کے دل و دماغ سے عقیدۂ توحید کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور ایک اسلامی سوسائٹی میں مکمل نظام زندگی کے قیام پر ختم ہوتا ہے۔

وہ دل جو اللہ وحدہ کو الٰہ سمجھتا ہے ' جو صرف اللہ کی بندگی کرتا ہے ، وہ اپنا سر کسی کے آگے نہیں جھکاتا۔ وہ نہ تو غیر اللہ سے کوئی چیز طلب کرتا ہے ، نہ غیر اللہ پر اعتماد کرتا ہے۔ ایسے شخص کے نزدیک صرف اللہ ہی قوی ہے اور صرف اللہ اس پوری کائنات پر غالب ہے۔ سب پر غالب ہے۔ سب کے سب ضعیف اور کمزور ہیں اور وہ کسی کے لیے کوئی نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ لہٰذا کسی انسان کو کسی انسان کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے۔ کیونکہ یہ انسان سب کے سب اسی کی طرح ہیں اور خود اپنے نفع ونقصان کے مختار بھی بنیں ۔ اللہ وحدہ ہی دینے والا اور روکنے والا ہے۔ لہٰذا اللہ کو اس سلسلے میں کسی وسیلے اور واسطے کی ضرورت نہیں۔ تمام مخلوق اس کی محتاج ہے اور وہ غنی ہے۔

پھر جو دل عقیدۂ توحید سے لبریز ہے وہ اس بات پر بھی ایمان لاتا ہے کہ اس کائنات کے ایک ہی قانون قدرت اور ناموس فطرت کنڑول کرتا ہے۔ لہذا اس کا یہ ایمان ہوتا ہے کہ جو نظام زندگی اللہ نے انسانوں کے لیے تجویز کیا ہے ، یہ بھی انہی قوانین قدرت کا حصہ ہے۔ جو اس کائنات کے لیے وضع ہوئے ہیں۔ لہذا یہ انسان اس دنیا کے ساتھ ہم آہنگی کی زندگی نہیں بسر کرسکتا الایہ کہ وہ اسلامی نظام زندگی کو اپنالے۔ لہٰذا وہ وہی احکام و انتظام اختیار کرتا ہے جو اللہ چاہتا ہے یعنی وہ اللہ ہی کی شریعت کی اطاعت کرتا ہے جو اس نظام کائنات اور انسان کے وجود کے نظام کے ساتھ موافق ہے۔

پھر جو دل کو وحدہ لاشریک سمجھتا ہے ، وہ اپنے اور اس اللہ کی پیدا کردہ تمام کائنات کے درمیان ایک قربت اور تعلق محسوس کرتا ہے۔ اس کائنات کی زندہ چیزیں ہوں یا مردہ ۔ لہٰذا اس کی زندگی ایک ایسے ماحول کے اندر بسر ہوتی ہے جو اس کا دوست ، ہمد ومعاون اور اس کے ساتھ ہمقدم اور محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ وہ اپنے ماحول میں اللہ کے دست قدرت کی کارستانیاں محسوس کرتا ہے۔ لہٰذا وہ اس ماحول میں اللہ اور اس کی مخلوقات کے ساتھ مانوس ہوکر رہتا ہے۔ اس کے ساتھ اللہ کی مخلوق ہوتی ہے۔ اس کی آنکھیں اللہ کی پیدا کردہ عجائبات پر ہوتی ہیں۔ وہ یہاں اس کائنات کی کسی چیز کو ایذا نہیں دیتا۔ وہ اس کائنات کی کسی چیز کو تلف نہیں کرتا امرالہٰی سے۔ کیونکہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ وہی زندگی دینے والا ہے۔ وہ سب کا رب ہے اور ہر چیز کا رب ہے۔

اسی طرح انسانی زندگی تصورات اور میلانات میں بھی توحید ظاہر ہوتی ہے۔ انسانی طرزعمل اور اس کی چال ڈھال میں بھی توحید کا اثر ہوتا ہے۔ اور انسانی زندگی اور سوسائٹی کے لیے منہاج اور طریق زندگی میں بھی توحید کا اثر ہوتا ہے۔ اور عقیدۂ توحید محض ایک کلمہ نہیں رہتا جسے زبان سے کہہ دیا جائے ۔ وہ ایک مکمل نظام بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے قرآن میں عقیدۂتوحید کو بہت ہی بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ ہر جگہ اس پر اصرار و تکرار کیا گیا ہے۔ لہٰذا توحید پر ان زاویوں سے غور کیا جانا چاہئے ۔ اس زاویہ سے توحید ایک فکر ، ایک نظام اجتماعی اور نظام حکومت بن جاتی ہے۔ اور اس پر ہر وقت تدبر کی ضرورت ہے۔ ہر زمانے میں ، ہر خاندان اور سوسائٹی میں اور اسی مفہوم میں اس پر تدبر کی ضرورت ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
عطیہ کریں۔
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں