سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الذاريات 51:25

51:25
اذ دخلوا عليه فقالوا سلاما قال سلام قوم منكرون ٢٥
إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَقَالُوا۟ سَلَـٰمًۭا ۖ قَالَ سَلَـٰمٌۭ قَوْمٌۭ مُّنكَرُونَ ٢٥
اِذْ
دَخَلُوْا
عَلَیْهِ
فَقَالُوْا
سَلٰمًا ؕ
قَالَ
سَلٰمٌ ۚ
قَوْمٌ
مُّنْكَرُوْنَ
۟
جب وہ اس کے ہاں داخل ہوئے تو انہوں نے سلام کہا۔ اس نے بھی (جواب میں) سلام کہا (اور دل میں کہا کہ) یہ تو کوئی اجنبی لوگ ہیں۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 51:24 سے 51:30 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔

اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔