سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الذاريات 51:40

51:40
فاخذناه وجنوده فنبذناهم في اليم وهو مليم ٤٠
فَأَخَذْنَـٰهُ وَجُنُودَهُۥ فَنَبَذْنَـٰهُمْ فِى ٱلْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌۭ ٤٠
فَاَخَذْنٰهُ
وَجُنُوْدَهٗ
فَنَبَذْنٰهُمْ
فِی
الْیَمِّ
وَهُوَ
مُلِیْمٌ
۟ؕ
سو ہم نے پکڑا اس کو اور اس کے لشکروں کو اور انہیں پھینک دیا سمندر میں اور وہ ملامت زدہ تھا۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 51:38 سے 51:46 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔

حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔