سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأحقاف 46:3

46:3
ما خلقنا السماوات والارض وما بينهما الا بالحق واجل مسمى والذين كفروا عما انذروا معرضون ٣
مَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَأَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۚ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَمَّآ أُنذِرُوا۟ مُعْرِضُونَ ٣
مَا
خَلَقْنَا
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضَ
وَمَا
بَیْنَهُمَاۤ
اِلَّا
بِالْحَقِّ
وَاَجَلٍ
مُّسَمًّی ؕ
وَالَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
عَمَّاۤ
اُنْذِرُوْا
مُعْرِضُوْنَ
۟
اور ہم نے نہیں پید ا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے مگر حق کے ساتھ اور ایک اجل معین کے لیے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ اعراض کر رہے ہیں اس سے جس سے انہیں خبردار کیا جا رہا ہے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

( ما خلقنا السماوات والأرض وما بينهما إلا بالحق وأجل مسمى ) يعني يوم القيامة ، وهو الأجل الذي تنتهي إليه السموات والأرض ، وهو إشارة إلى فنائهما ( والذين كفروا عما أنذروا ) خوفوا به في القرآن من البعث والحساب ( معرضون ) .