سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأحقاف 46:34

46:34
ويوم يعرض الذين كفروا على النار اليس هاذا بالحق قالوا بلى وربنا قال فذوقوا العذاب بما كنتم تكفرون ٣٤
وَيَوْمَ يُعْرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ أَلَيْسَ هَـٰذَا بِٱلْحَقِّ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ ٣٤
وَیَوْمَ
یُعْرَضُ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
عَلَی
النَّارِ ؕ
اَلَیْسَ
هٰذَا
بِالْحَقِّ ؕ
قَالُوْا
بَلٰی
وَرَبِّنَا ؕ
قَالَ
فَذُوْقُوا
الْعَذَابَ
بِمَا
كُنْتُمْ
تَكْفُرُوْنَ
۟
اور جس روز پیش کیے جائیں گے یہ کافر آگ پر (اور ان سے پوچھا جائے گا :) کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے : کیوں نہیں ! ہمارے پروردگار کی قسم یہ (حق ہے) اللہ فرمائے گا : تو اب چکھو عذاب کا مزہ اپنے اس کفر کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 46:31 سے 46:34 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

یغْفِرْ‌ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ (will forgive your sins for you,) The word 'min' used in the text gives the sense of 'some'. If it is taken in this sense here, it would mean that 'some sins' will be forgiven by embracing Islam. It will indicate that only sins relating to the rights of Allah would be forgiven but not the rights of people. But some exegetes have taken 'min' in this verse as an extra word that has no additional meaning in Arabic idioms. Given this interpretation, no explanation is required.