سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأحقاف 46:5

46:5
ومن اضل ممن يدعو من دون الله من لا يستجيب له الى يوم القيامة وهم عن دعايهم غافلون ٥
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُۥٓ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَـٰفِلُونَ ٥
وَمَنْ
اَضَلُّ
مِمَّنْ
یَّدْعُوْا
مِنْ
دُوْنِ
اللّٰهِ
مَنْ
لَّا
یَسْتَجِیْبُ
لَهٗۤ
اِلٰی
یَوْمِ
الْقِیٰمَةِ
وَهُمْ
عَنْ
دُعَآىِٕهِمْ
غٰفِلُوْنَ
۟
اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کے سوا اسے پکارتا ہے جو اس کو جواب ہی نہیں دے سکتا قیامت کے دن تک اور وہ ان کی دعا سے غافل ہیں۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 46:4 سے 46:6 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

مفسر ابن كثير نے يهاں ’’كتاب‘‘ سے مراد نقلي دليل اور ’’أَثارَةٍ مِنْ عِلْمٍ‘‘ سے مراد عقلي دليل لي هے (أَيْ لَا دَلِيْلَ لَكُمْ لَا نَقْلِيًّا وَلَا عَقْلِيًّا عَلَى ذَلِكَ) تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 252 ۔

علم حقيقةً صرف دو هے۔ ايك الهامي علم (Revealed knowledge)۔ يعني وه علم جو پيغمبروں كے ذريعه سے انسانوں تك پهنچا۔ دوسرا ثابت شده علم (Established knowledge)۔ يعني وه علم جس كا علم هونا انساني تحقيقات اور تجربات سے ثابت هوگيا هو۔ ان دونوں ميں سے كوئي بھي علم يه نهيں بتاتا كه اس كائنات ميں ايك خدا كے سوا كوئي اور هستي هے جو خدائي کے لائق هے۔ اور جب علم كے دو ذريعوں ميں سے كوئي ذريعه شرك كي گواهي نه دے تو مشركانه عقيده انسان كے لیے كيوں كردرست هوسكتا هے۔ جو شخص خدا كو چھوڑ كر كسي اور چيز كو اپنا سهارا بنائے۔ وه سہارا آخرت كے دن اس سے برأت كرے گا، نه كه وه اس كا مددگار بنے ۔