سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأنعام 6:161

6:161
قل انني هداني ربي الى صراط مستقيم دينا قيما ملة ابراهيم حنيفا وما كان من المشركين ١٦١
قُلْ إِنَّنِى هَدَىٰنِى رَبِّىٓ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ دِينًۭا قِيَمًۭا مِّلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ١٦١
قُلْ
اِنَّنِیْ
هَدٰىنِیْ
رَبِّیْۤ
اِلٰی
صِرَاطٍ
مُّسْتَقِیْمٍ ۚ۬
دِیْنًا
قِیَمًا
مِّلَّةَ
اِبْرٰهِیْمَ
حَنِیْفًا ۚ
وَمَا
كَانَ
مِنَ
الْمُشْرِكِیْنَ
۟
(اے نبی ﷺ !) کہیے کہ میرے رب نے تو مجھے ہدایت دے دی ہے سیدھے راستے کی طرف وہ دین ہے سیدھا جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں اور ملت ہے ابراہیم کی جو یکسو تھا (اللہ کی طرف) اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 6:161 سے 6:165 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

قرآن کی صورت میں خدا نے اپنا وہ بے آمیز دین نازل کردیا ہے جو اس نے حضرت ابراہیم اور دوسرے پیغمبروں کو دیا تھا۔ اب جو شخص خدا کی رحمت ونصرت میںحصہ دار بننا چاہتاہو وہ اس دین کو پکڑ لے، وہ اپنی عبادت کو خدا کے ليے خاص کردے۔ وہ خدا سے قرباني کی سطح پر تعلق قائم کرے۔ وہ جئے تو خدا کے ليے جئے اور اس کو موت آئے تو اس حال میں آئے کہ وہ ہمہ تن خدا کا بندہ بنا ہوا ہو۔ عظیم کائنات اپنے تمام اجزا کے ساتھ اطاعت خداوندی کے اسی دین پر قائم ہے۔ پھر انسان اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ کیسے اختیار کرسکتاهے۔ خدا کی اطاعت کی دنیا میں خدا کی سرکشی کا طریقہ اختیار کرنا کسی کے ليے کامیابی کا سبب کس طرح بن سکتا ہے۔ یہ معاملہ ہر شخص کا اپنا معاملہ ہے، کوئی نہ کسی کے انعام میں شریک ہوسکتا اور نہ کوئی کسی کی سزا میں آدمی کو چاہیے کہ اس معاملہ میں وہ اسی طرح سنجیدہ ہو جس طرح دنیا میں کوئی مسئلہ کسی کا ذاتی مسئلہ ہو تو وہ اس میں آخری حد تک سنجیدہ ہوجاتا ہے۔

دنیا کا نظام یہ ہے کہ یہاں ایک شخص جاتاہے اور دوسرا اس کی جگہ آتا ہے۔ ایک قوم پیچھے ہٹا دی جاتی ہے اور دوسری قوم اس کے بجائے زمین کے ذرائع ووسائل پر قبضہ کرلیتی ہے۔ یہ واقعہ بار بار یاد دلاتا ہے کہ یہاں کسی کا ااقتدار دائمی نہیں۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جس کسی کو زمین پر موقع ملتاہے تو وہ گزرے ہوئے لوگوں کے انجام کو بھول جاتاہے۔ وہ اپنے ظلم اور سرکشی کو جائز ثابت کرنے کے ليے طرح طرح کے دلائل گھڑ لیتا ہے مگر جب خدا حقیقتوں کو برہنہ کرے گا تو آدمی دیکھے گا کہ اس کی ان باتوں کی کوئی قیمت نہ تھی، جن کو وہ اپنے موقف کے جواز کے ليے مضبوط دلیل سمجھے ہوئے تھا۔

دنیا میں آدمی کی سرکشی کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کی چیزوں کو اپنے حق میں خدا کا انعام سمجھ ليتاہے ہے۔ حالاں کہ دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتاہے وہ صرف بطور آزمائش ہے، نہ کہ بطور انعام۔ دنیا کی چیزوں کو آدمی اگر انعام سمجھے تو اس کے اندر فخر پیدا ہوگا اور اگر وہ ان کو آزمائش سمجھے تو اس کے اندر عجز پیدا ہوگا۔ فخر کی نفسیات ڈھٹائی پیدا کرتی ہے اور عجز کی نفسیات اطاعت۔