سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأنبياء 21:45

21:45
قل انما انذركم بالوحي ولا يسمع الصم الدعاء اذا ما ينذرون ٤٥
قُلْ إِنَّمَآ أُنذِرُكُم بِٱلْوَحْىِ ۚ وَلَا يَسْمَعُ ٱلصُّمُّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ ٤٥
قُلْ
اِنَّمَاۤ
اُنْذِرُكُمْ
بِالْوَحْیِ ۖؗ
وَلَا
یَسْمَعُ
الصُّمُّ
الدُّعَآءَ
اِذَا
مَا
یُنْذَرُوْنَ
۟
آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میں تم لوگوں کو خبردار کرتا ہوں وحی کے ذریعے سے اور بہرے نہیں سنتے کسی پکار کو جب انہیں خبردار کیا جاتا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

قل انمآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اذا ماینذرون (54) ” لوگوخیال کرو ‘ کہیں تم بہرے تو نہیں ہو۔ تم کیوں نہیں سنتے۔ ورنہ تمہارے پیروں تلے سے زمین سرک جائے گی اور دست قدرت تمہیں سیکڑ کر رکھ دے گا۔ ان کو دولت کے گھمنڈ اور مالدری کی مستی سے ڈرایا جاتا ہے۔

سیاق کلام اپنی موثر بات مزید بڑھاتا ہے اور عذاب کے وقت خود ان کی تصویری حالت ان کو بتاتا ہے۔